Pages

بدھ، 10 جون، 2015

نیشنل بک فائونڈیشن: دیوانِ غالب سے ہیر وارث شاہ تک

اس وقت مجھے دہائیوں پہلے کی وہ کتاب یاد آرہی ہے جو باتصویر تھی، تمام تصویریں رنگین اور یورپ کے بہترین نقاشوں کی بنائی ہوئی۔
پانچ، چھ سو صفحوں کی اس کتاب کو بچوں کے لیے ادب کے خزینے کا نام دیا گیا تھا ۔اس کے ابتدائی صفحات پر ایک عجیب منظر ہے جسے اگرتوجہ سے دیکھا جائے تو ذہن پر نقش ہوجاتا ہے۔ دریا کا کنارہ، گھاٹ پر اوندھا لیٹا ہوا بچہ پڑھ رہا ہے۔ ایک شخص گھوڑے پر سوار کہیں جارہا ہے اور پڑھ رہا ہے، کشتی میں بیٹھی ہوئی حسینہ اورنوجوان پڑھنے میں غرق ہیں، پیڑ پر لکڑی کے چھوٹے سے گھر میں بیٹھا ہوا لڑکا، سائیکل چلاتا ہوا مرد سب ہی کتابوں میں غرق ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی زندگی کا مقصد ہی کتاب پڑھنا ہے۔ یہ کتاب اور اس میں چھپی ہوئی نقاشی یاد آئی تو ونڈر لینڈ کی ایلس کا یہ جملہ بھی یاد آیا کہ اگر کتاب باتصویر نہ ہو اوراس میں باتیں نہ ہورہی ہوں، تو اس کتاب کا فائدہ ہی کیاہے۔ خوابوں میں غرق ایک بچی کو یہی کہنا چاہیے تھا۔ لیکن سچ بھی یہی ہے کہ بچے ہوں یا بڑے، کتاب کو دلکش اور دل فریب ہونا چاہیے۔
نیشنل بک فائونڈیشن کے مظہر الاسلام کا بچپن یا ایسی کتابوں کے درمیان بسر ہوا ہے یا پھر انھیں پیلے کاغذ پر چھپی ہوئی بد صورت کتابیں پڑھنے کے تجربے سے گزرنا پڑا ہے تب ہی نیشنل بک فائونڈیشن کی ذمے داریاںسنبھالنے کے بعد انھوں نے جی میں ٹھان لی کہ ان کا ادارہ اچھی کتابیں شایع کرنے کے ساتھ ہی انھیں دیدہ زیب بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔ نیشنل بک فائونڈیشن کی کہانی یہ ہے کہ بھٹو صاحب نے اسے پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت 1972 میں قائم کیا تھا۔ اس کے قیام کا مقصد جہاں یہ تھا کہ کتابوں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلایا جائے، وہیں یہ بھی تھا کہ وہ غیر ملکی کتابیں جن میں سے بیشتر نصابی تھیں۔ انھیں ایک معاہدے کے تحت یہ ادارہ شایع کرے اور طالب علموں تک انھیں پہنچایا جائے۔ اس ادارے نے ایسی بہت سے کتابیں چھاپیں لیکن ان کا طباعتی معیار مناسب نہیں تھا۔ فائونڈیشن نے ایک اہم معاہدہ ہندوستان کے علمی اور تحقیقی ادارے دارالمصنفین، اعظم گڑھ سے کیا اور اس کی کئی کتابیں شایع کیں جن سے بہ طور خاص پاکستان میں عربی پڑھانے اور پڑھنے والوں کو فائدہ ہوا کیونکہ اس سے پہلے یہ کتابیں پاکستان میں میسر نہیں تھیں اور اگر مل بھی جائیں تو آگ کے مول تھیں۔
فائونڈیشن نے گزشتہ چند برسوں میں جو کتابیں شایع کی ہیں انھیں دیکھ کر یقین آجاتا ہے کہ اداروں کو افراد کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔ دیوان غالب کا جیبی ایڈیشن جس اہتمام سے شایع کیا گیا اسے دیکھ کر آنکھیں روشن ہوتی ہیں۔ دلی کی غالب اکیڈمی کے مطبوعہ جیبی دیوان کو فائونڈیشن نے بنیاد بنایا ہے اور اسے عبدالرحمان چغتائی، صادقین، محمد تجویدی اور دیگر ایرانی، ترک اور ازبک مصوروں کی مصوری سے سجایا اور سنوارا گیا ہے۔ اسی طرح اقبال کی کلیات میں ’بانگ درا‘ ’بال جبرئیل‘ ’زبور عجم‘ وغیرہ کو یکجا کیا گیا ہے اور اسے آرائشی حاشیوں سے مزین کیا گیا ہے۔ دیوان غالب ، کلیات اقبال اور منتخب اشعار پر مشتمل ’بیاض‘ ان لوگوں کے لیے خاصے کی چیز ہے جو کتابیں شوق سے خریدتے ہیں اور تحفے میں بھی دیتے ہیں۔ عام خریدار کی جیب پر یہ یقیناً گراں گزریں گی لیکن اس کا جی چاہے گا کہ وہ بھی اسے خریدسکے اور اپنے پاس رکھ سکے۔
اسی طرح مظہر الاسلام نے بہت محبت ادب اور عقیدت سے ’’ہیروارث شاہ‘ چھاپی ہے جو پنجابی ادب کا عظیم شاہ کار ہے۔ اسے عمدہ کاغذ اور اعلیٰ رنگین طباعت سے سجایا گیا ہے۔ 26 ستمبر کو انھیں یہ کتاب تحفتاً ارسال کی تو ساتھ ہی ایک خط بھی بھیجا۔ لکھتے ہیں۔
محترمہ زاہدہ حنا: سید وارث شاہ پنجابی کے عظیم شاعر ہیں۔ کوئی انھیں پنجابی کاشیکسپیئر کہتا ہے، تو کوئی مولیئر۔ کوئی انھیں سعدی کا ہم پلہ مانتا ہے تو کوئی رومی کا۔ ان کی تصنیف ہیر وارث شاہ کے مطالعہ سے ان کے کئی روپ کھل کر سامنے آتے ہیں۔ وہ بیک وقت صوفی بھی ہیں اور رند بھی۔ ملا بھی اور قلندر بھی۔ وہ موسیقی کے رموز سے بھی آگاہ ہیں۔ لگتا ہے کہ انھیں وید، ویدانت، گیتا، اُپنشدوں اور پرانوں پر مکمل عبور حاصل ہے۔ بھگتی لہر بھی ان کی شاعری میں لہراتی نظر آتی ہے۔ وہ اسلامی تصوف و اخلاق میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔
سید وارث شاہ کا تاریخ کا مطالعہ نہایت وسیع ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں اپنے ہم عصرسیاسی ماحول کی عکاسی نہایت فنکارانہ انداز سے کی ہے۔ تنویر بخاری کی یہ بات درست ہے کہ اگر ہمارے پاس عہد کی کوئی تاریخ موجود نہ ہوتو ہیر وارث شاہ کی ہی کافی ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پر کھل کر روشنی ڈالی ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ وہ تاریخ کی کوئی کتاب نہیں لکھ رہے تھے، بلکہ ایک عشقیہ قصہ بیان کررہے تھے۔ اس کے باوجودانھوں نے ہیر رانجھا کے قصہ میں اپنی تاریخ دانی کے اظہار کے مواقعے پیدا کرلیے۔ سید وارث شاہ نے پنجابی کی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو بھی اجاگر کیا ہے۔
وارث شاہ کی شخصیت اور ہیر وارث شاہ کے متن کے بارے میں اس کتاب کا انداز محققانہ ہے۔ یہ کتاب تنویر بخاری کی پچاس سالہ تحقیق کا نچوڑ ہے۔ اس کتاب کا ایک دیدہ زیب نسخہ آپ کے مطالعے کے لیے بجھوا رہا ہوں۔مظہر الاسلام منیجنگ ڈائریکٹر تنویر بخاری نے اس کتاب کو نہایت تحقیق و تفتیش سے لکھا ہے اور اس میں وارث شاہ کی شخصیت، عہد اور فن کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ بڑے شاعروں کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ الحاقی کلام کا ہوتا ہے۔ بخاری صاحب نے ’ہیر وارث شاہ میں ملاوٹی اشعار‘ کا باب قائم کرکے پنجابی ادب کی بڑی خدمت کی ہے اور پروفیسر ضیاء محمد کی کتاب ’’یادگارِ وارث‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اب اس کا مصدقہ نسخہ ملتا نہیں اور اگر کسی کے پاس نسخہ ہے بھی تو وہ ناپید کے برابر ہے کیونکہ اس کا پردہ اخفا میں رکھنا کار ثواب خیال کیاجاتا ہے اور کسی دوسرے کا اس سے مستفید ہونا گناہِ عظیم۔ لہذا اس نسخے کا عدم ووجود برابر ہوا۔ انھوں نے ایک طویل فہرست ان شعراء کی بھی دی ہے۔ جنہوں نے ’ہیر وارث شاہ‘ میں ہیرا پھیری کی۔اس کتاب میں وارث شاہ کے ہم عصر سیاسی ماحول، ان کی عشقیہ شاعری اور پنجاب کا تمدن جس طرح ’ہیر‘ میں محفوظ ہوا ہے۔ اس کا بھی تذکرہ تفصیل سے ہے۔
فائونڈیشن نے ایک اور خاص کتاب ’علم فلسفہ کے معیار: ایک سو عظیم فلسفی‘ شایع کی ہے۔ یہ ہمارے ایک نام دار محقق اور مترجم یاسر جواد کی محنت کا ثمر ہے۔ اس کتاب کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں انھوں نے ہندوستان، جاپان اور چین کے اہم فلسفیوںکو بھی شامل کیا ہے۔ ہر فلسفی کی ایک رنگین تصویریا تصویری مجسمے کا عکس بھی ہمیں نظر آتا ہے۔ یوں تو اس کا ہر صفحہ غورو فکر پر اکساتاہے لیکن ابن سینا کی تصویر کی پشت پر یہ جملہ بہت معنی خیز ہے کہ ’دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جن کے پاس عقل ہے اور مذہب نہیں۔ دوسرے وہ جن کے پاس مذہب ہے مگر عقل نہیں۔‘‘ ہم ان دنوں ایسے ہی لوگوں کے نرغے میں ہیں اور لوگ بے خطا وبے قصور قتل ہورہے ہیں۔ قتل ہونے والوں کو علم نہیں کہ وہ کیوں مارے گئے اور قتل کرنے والے اس لذت سے سرشار ہیں کہ انھوں نے جنت کو جانے کا پروانہ حاصل کرلیا۔
اس کتاب کے مصنف یاسر جواد صاحب سے تھوڑا ساگلہ اس بات کا ہے کہ انھوں نے ابن رشد کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کو بیان نہیں کیا۔ ابن رشد ہماری تاریخ کا وہ فرد ہے جس کی کتابیں ہم نہ جلاتے اور اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک نہ کرتے تو آج ہمارا وہ حشر نہ ہوتا جو ہوا۔ یہ تلخ حقائق ہمارے لوگوں کو معلوم ہونے چاہئیںکہ یورپ نے جس شخص کی کتابوں سے استفادہ کیا، وہ ہمارا ابن رشد ہے۔ یہ ابن رشد کے یہودی شاگرد تھے جو اس کی کتابیں اپنے ساتھ چھپا کر یورپ کے مختلف شہروں میں لے گئے۔ ان کے عبرانی ترجمے ہوئے اور یورپ کی عقل پر جو زنگ آلود قفل پڑے تھے وہ کھلے اور نشاۃ الثانیہ کی راہ ہموار ہوئی۔ آج ہم جس بحران کے گرداب میں ہیں اس کا ایک سرا صدیوں پہلے کی ہماری غلط کاریوں سے جا ملتا ہے جن سے آگاہی ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔
فائونڈیشن اور اس کے سربراہ قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے مختلف موضوعات پر عمدہ کتابیں منتخب کیں اور اعلیٰ طباعت و اشاعت کا اہتمام کیا۔ ہمارے یہاں خرد دشمنی کی جو وبا چلی ہے اس کا مقابلہ ہم اچھے خیالات اور اچھی کتابوں سے کرسکتے ہیں۔ یہ سائنسی علوم، ادب، تاریخ، سماجیات، تذکروں اور داستانوں کی کتابیں ہیں۔ مظہر الاسلام اس میدان میں اترے ہیں تو اپنی ہمت سے بڑھ کر کام کریں کہ یہی ذریعہ نجات ہے۔ فرد کی اور قوم کی نجات۔
مکمل تحریر >>

     
ریڈیو پاکستان والے چوک میں اسلام آباد پولیس کا ناکہ تھا۔سپاھی نے ہاتھ دیا تو میں نے گاڑی روک لی کہاں

 جا  رہے ہیں؟ سپاھی نے گویا لٹھ ماری میرا جواب سادہ تھا نیشنل لائبریری ،مگر اگلا سوال پہلے سے کئ

 مشکل تھا، کیوں؟ ابھی میں سوچ ھی رھا تھا کہ اس کیوں کا کیا جواب دوں کہ اگلی سیٹ پر بیٹھے نیرے

 دوست نے میڈیا کا کارڈ دکھایا تو ہمیں آگے جانے کی اجازت مل گئ۔ہماری منزل قومی سطح کا سب سے بڑ

 کتب خانہ تھا۔نیشنل لائبریری کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوۓ تو ہو کا عالم تھا۔ استقبالیہ پر بیٹھے

 شخص نے ہمیں سر سے لیکر پاؤں تک یوں دیکھاجیسے ہماری ذہنی حالت پر شک ہو،میں نے ڈرتے ڈرتے مدعا

 بیان کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ کتابیں دیکھ سکتے ہیں؟ جواب ملا کل آئیں لائبریری کا وقت ختم ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے

 حیرت سے دوست کی طرف دیکھا تو اس نے میڈیا کا حوالہ دیتے ہوۓ اپنے طریقے سے درخواست کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 استقبالیہ پر بیٹھے شخص نے گویا ہماری 7 پشتوں پر احسان کرتے ہوۓ ھمیں اندر جانے کی اجازت مرحمت

 فرمائ تو مجھ پر حیرت کے سمندر ٹوٹ پڑے اور میں یورپ کی ترقی کا راز کھوجنے لگا۔

جب یورپاپنے صدیوں پر محیط سیاہ دور سے نشاۃ ثانیہ کا سفر طے کر رہا تھا تو وہاں علم کی عزت اور توقیر شروع

 ہو رہی تھی اور ہمارے ہاں علم کی بے توقیری بڑھ رہی تھی انگلستان کی آکسفورڈ یونیورسٹی 1157 اور کیمبرج

 یونیورستی 1207ء کو قائم کی جا چکی تھیں اور ان یونیورسٹیوں کی ویل باؤرن کے قریب فرانس ترئج لائبریری

 قائم ہوئ 1608ء کو ناروچ سٹی لائبریری قائم ہوئ اس کے بعد چھوٹی بری لائبریریوں کا سلسلہ پورے انگلستان

 میں پھیل گیا علم کی قدر اور فروغ کی عمل اعلمی خدمات نے نہ صرف انگلستان بلکہ پوری دنیا کا نقشہ بدل

 کے رکھ دیا یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ کتب خانوں کا قیام سولہویں صدی عیسوی سے شروع ہو چکا تھا 159

 انگلستان کے عالمی طاقت بننے سے کئ صدیوں پہلے شروع ہو چکا تھا


اٹلی میں پہلی لائبریری میلا ٹیسٹا 1452ء میں قائم ہو چکی تھی جب یورپ کی سفید فام نسل نے ام 

کینیڈا،آستریلیا اور نیوزی لینڈ آباد کیۓ تو وہاں بھی فوری طور پر لائبریریوں اور یونیورسٹیوں کا 1 سلسلہ شروع کیا

 1636ء میں امریکہ میں میں ہارورڈ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا گیاتو 1779ء میں کینیڈا میں پہلی لائبریری

 کیوبک سٹی میں قائم کی گئ جبکہ اسی عرصہ میں بر صغیر میں کوئ بڑی اور قابل ذکر یونیورسٹی یا لائبریری

 تعمیر نہیں ہوئ علم و تحقیق سے جیسے ہمارے حکمرانوں کا واسطہ ہی نہ تھا

مکمل تحریر >>

صحافت , صحافی کا کرداراور سوشل میڈیا

(link is external)

ساجد نامہ - 
صحافی ایک خبر رساں نمائندہ ہی نہیں ہوتا اور اگر کوئی دوسرا یا وہ کوئی صحافی خود کو صرف خبر رساں سمجھتا ہے تو وہ سرے سے غلط سمجھتا ہے ۔ صحافی گو کہ ایک فرد ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اپنے آپ میں ایک تحریک کا درجہ رکھتا ہے وہ تحریک جو معاشرے میں پائے جانے والی ناہمواریوں کو ایک عام آدمی کے سامنے لانے کے لئے ہمہ دم کوشاں رہتی ہے اور اس کے حل کے لئے اپنے قلم کو یوں استعماال کرتی ہے کہ وہ جہاں تلوار سے زیادہ کاٹ دار نظر آتا ہے وہیں ایک   شیریں زبان مصلح کا روپ بھی دھارتا ہے ۔تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے ادوار میں اردو صحافت اپنے معیار اور کام کے حوالے سے بلندی پر تھی ۔ تب نہ سوشل میڈیا تھا نہ الیکٹرانک لیکن اس وقت کے صحافیوں کو کردار ایسا جاندار نظر آتا ہے کہ آج کے صحافی کے لئے مشعل راہ ہے ۔ لیکن آج کل جہاں ہمارے اوپر تساہل اور بے عملی چھائی ہے اس کا ایک مظاہرہ صحافت میں بھی صاف دکھائی دیتا ہے ۔ نہیں نہیں ، میں زبان و بیاں کے اغلاط اور نامکمل معلومات کے ساتھ خبر دینے کی طرف اس تحریر میں کوئی بات نہیں کرنے والا بلکہ میں جو کہنے والا ہوں وہ ان دونوں باتوں سے زیادہ مایوس کن اور صحافتی اقدار کے منافی رویہ کی نشان دہی ہے ۔ 
دیکھئے ، بات کو سمجھنے سے قبل یہ ذہن نشین کر لیجئے کہ صحافت کا ایک بنیادی اصول ہے کہ آپ اپنے کا م کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ عوام کے ردعمل یا فیڈ بیک سے لیتے ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ اکثر صحافی جو یہ بات کرتے ہیں کہ جناب "ہم جن اخبارات کے ساتھ منسلک ہیں وہ دراصل ہماری تحریر کو یوں کانٹ چھانٹ کر شائع کرتے ہیں کہ اس کا مفہوم کچھ کا کچھ بن جاتا ہے ۔ اخبارات کی اپنی پالیسی ہوتی ہے یوں وہ ہماری تحریر کی شکل بگاڑ دیتے ہیں "۔ میں ان صحافیوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ نے واقعی تحریر لکھنے میں اپنی پوری استعداد ، تجربہ ، دیانت ، خلوص اور تحقیقی عرق ریزی کی ہے تو آپ کی تحریر آپ کے لئے آپ کی اپنی اولاد کی طرح سے ہے۔ اور کوئی باپ یا ماں کسی کے ہاتھوں اپنی اولاد کو ذبح ہوتے یا اس کے ہاتھ پاؤں ٹوٹتے نہیں دیکھ سکتی۔ اگر آپ کا آجر اخبار آپ کی تحریر کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے تو اس کو روکنے کے لئے کھڑے ہونا ، اس کے خلاف مزاحمت کرنا اور ایسا ہونے سے روکنا آپ کی اولین زمہ داری ہے اور ایک صحافی ہونے کے ناطے آپ پر دہری ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ ایسا نہ ہونے دیں کیونکہ اگر آپ اپنی تحریر کے وجود کا دفاع ہی نہیں کر سکتے تو آپ معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف ادا کی جانے والی اپنی ذمہ داریوں سے کیسے عہدہ بر ا ہو سکتے ہیں ؟ ۔ جبکہ آپ کے خیالات ہی عوام کے سامنے نہیں پہنچنے دئیے جا رہے ، اپ کی کوششوں ، آپ کے تجربے اور آپ کی محنت کو ضائع کیا جا رہا ہے تو آپ کس طرح سے عوام کے حقوق کے لئے اپنے اندر لگن پیدا کریں گے ؟ ۔ اگر آپ نے یہاں تک بات سمجھ لی ہے تو اب بات ایک نئے زاوئیے کی طرف مڑتی ہے ۔  ہمارے کچھ صحافی دوست کہتے ہیں کہ چونکہ اخبارات ہماری تحاریر کی شکل بگاڑتے ہیں اس لئے ہم سوشل میڈیا یعنی فیس بک یا بلا گنگ کی طرف رجوع کرتے ہیں تا کہ کسی کانٹ چھانٹ کے بغیر اپنی بات عوام تک پہنچا سکیں ۔ سوشل میڈیا پر ان  صحافی دوستوں کا آنا بہت اچھی بات ہے ،لیکن سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا ہمارے ان صحافی دوستوں نے صحافت کو اختیار کرتے وقت اپنی ذات سے جو عہد و پیماں کئے تھے کہ ہم قلم کی عظمت اور قلم کی طاقت کو تلوار کی دھار پر بھاری ثابت کر کے رہیں گے کیا وہ ایک اخباری پالیسی کے سامنے ڈھیر ہو گئے ؟ اور کیا اخبار جیسا عوامی میڈیا جو نہ صرف تازہ ترین حالت میں روزانہ کی بنیاد پر زندگی کے ہر شعبے کے افراد تک پہنچتا ہے اور اس کے بعد  یہ تحریریں حکیموں ، پنساریوں کی دکانوں ، سموسوں کی ریڑھیوں اور تندوروں پر روٹی لپیٹ کر چھوٹے شہروں ، قصبوں ، دیہاتوں ، گاؤں اور بستیوں میں معاشرے کے ان افراد تک بھی پہنچتی ہیں جو باقاعدہ اخبار کے قاری نہیں ہوتے ، پر آپ نے سوشل میڈیا کو طاقتور خیال کر لیا  کہ جس تک صرف 16 سے 18 فیصد پاکستانیوں کی رسائی ہے اور ان میں سے بھی اکثر صرف دن بھر کی تھکن اتارنے کے لئے محض تفریح یا چیٹنگ کے لئے ادھر کا رخ کرتے ہیں ۔ پھر اس کے بعد کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا آپ نے اخبار کے مالکان یا انتظامیہ کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ آپ کی محنت پر یوں پانی پھیرنے سے آپ کو کتنی تکلیف ہوتی ہے ؟ دیگر سوالات بھی ذہن میں جگہ بناتے ہیں لیکن یہاں ان پر اس لئے بات نہیں کی جا رہی کہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان میں ان خطرناک حالات سے ہے جن کے چلتے ہمارا صحافی بہ مشکل تمام اپنے فرائض ادا کر پاتا ہے بصورت دیگر وہ بھی یہاں بیان کئے جاتے ۔ لیکن کم از کم یہ معاملہ مکمل طور پر صحافی دوستوں کی دسترس میں ہے کہ وہ اپنی لکھی بات کو من و عن عوام تک پہنچانے کے لئے مزید متحرک ہوں اور اپنی تنظیموں کو اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بنائیں ۔چلیں جی اب ہم تھوڑا تقابل کرتے ہیں کہ جب صحافی خود اس پوزیشن میں آ جاتے ہیں کہ ان کی بات مکمل سیاق و سباق کے ساتھ عوام کے سامنے سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچتی ہے تو وہ خود اخبارات سے کیوں کر مختلف اور کیوں کر موافق دکھائی دیتے ہیں ۔ بلاگنگ کی طرف جائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اردو بلاگنگ اس وقت کافی کمزور حالت میں ہے ۔ اور اس کی یہ کمزوری دراصل بلاگرز کا فیس بک اور ٹویٹر کی طرف التفات ہے کہ جہاں فوری رد عمل ملتا ہے اور بات کم وقت میں زیادہ لوگوں تک پہنچتی ہے اور ایک سبب یہ بھی ہے کہ بلاگ سپاٹ اور ورڈ پریس کی رفتار ہمیشہ سے ہی فیس بک اور ٹویٹر سے کم رہی ہے ۔ پاکستان کہ جہاں ابھی زیادہ تر لوگوں کے پا س سست رفتار نیٹ ہے وہ فیس بک اور ٹویٹر جیسے تیز رفتار میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں یوں ان سارے عوامل کے ہوتے پاکستانی اردو صحافیوں کا رجحان بھی اسی روش کا غماز ہے ۔ سوشل میڈیا ہر بہت سارے کہنہ مشق اور ان کے علاوہ نئے صحافی بھی موجود ہیں ۔ کچھ صحافی پیشہ ور ہیں تو کچھ جز وقتی صحافت کرتے ہیں ۔ یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے کہ جز وقتی صحافت صرف اور صرف خبر رسانی تک ہی بہتر نتائج دیتی ہے اور معاش کا دیگر ذریعہ اپنانے کے دوران تحقیق و تدقیق کے لئے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے اور یہ دونوں عوامل ایک صحافی  کو کامل تجزیہ نگار بننے اور مسائل کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل تجویز ہیش کرنے کے لئے جزو لاینفک ہیں ۔ عام طور پر سوشل میڈیا پر موجود صحافی دوست ان منفی باتوں سے دور رہتے ہیں جو اکثر فیس بکی دوستوں کے درمیان مشترک ہیں ۔۔۔ یعنی اشتعال اور الزام تراشی ۔ لیکن بہر حال ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے اندر یہ صفت صحافی ہونے کے باوجود موجود ہے ۔ ان میں زیادہ تر نئے صحافی اور ان غیر معروف اخبارات کے لئے کام کرنے والے ہوتے ہیں کہ جو اخبارات صحافت کو بلیک میلنگ اور گروہی پراپیگنڈا کے لئے استعمال کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ بھی منفی صحافت کا ایک المیہ ہے جس پر پھر کبھی بات کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔چند روز قبل ہمارے ایک صحافی دوست یہ فرما رہے تھے کہ ہم صحافی اپنے اخبارات کو جو کالم لکھ کر دیتے ہیں ان میں سے 20 فیصد تک کو وہ سرے سے چھاپنے سے ہی انکار کر دیتے ہیں اور بہت سارے کالمز مین مجبور کر کے تبدیلیاں کرواتے ہیں کہ یہ ان کی پالیسی کے مطابق ہو جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر مجھے یہ سہولت حاصل ہے کہ میں جو چاہوں لکھوں اور جو کہنا چاہتا ہوں کہوں لیکن انہوں نے ساتھ ہی ایک بات اور کہہ دی کہ جس کو میری بات پڑھنی ہے پڑھے اور جو نہیں پڑھنا چاہتا وہ مجھے ان فرینڈ کر دے اور جو میری بات پر اعتراض اچھالے میں اسے بلاک کرنے میں دیر نہیں لگاتا ۔ وہ صحافی دوست ابھی مزید کچھ فرما رہے تھے لیکن میں یہ سوچتا رہ گیا کہ فیڈ بیک ( تعریف کی صورت میں ہو یا تنقید کی صورت میں) ایک صحافی کی قیمتی متاع ہوتی ہے اور یہ کیسے صحافی ہیں کہ اپنی متاع سے ہاتھ دھونے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں کہ اعتراض کرنے والے کو میں بلاک کرنے مین دیر نہیں لگاتا ۔ اگر ان صحافی دوست کو اپنے اخبار سے اس کی پالیسی کی وجہ سے شکایات ہیں تو ان کو اس بات کا زیادہ احساس ہونا چاہئیے تھا کہ لکھنے لکھانے کا عمل تنقید کے بغیر نا مکمل ہے تبھی تو وہ اخبارات کی پالیسی پر تنقید کر کے اس عمل کی تکمیل کر رہے تھے اور ستم ظریفی یہ کہ دوسروں کو یہ عمل مکمل کرنے کی آزادی دینے کو وہ تیار نہیں تھے ۔ حالانکہ اب تو دنیا بھر کے تمام پرنٹ میڈیا کے اخبارات ، رسائل اور جرائد فیڈ بیک کی خاطر اپنے آن لائن ایڈیشن بناتے ہیں تا کہ ان کے ہاتھ عوام کی نبض پر رہیں ۔ پاکستان میں صحافت کرنا ایک مشکل امر ہے ۔ یہاں کے سیاسی حالات ، معاشی حالات اور سب سے بڑھ کر شرح خواندگی کی کمی صحافیوں کو اظہار رائے میں خاصی احتیاط پر مجبور کرتی ہے اور شاید اخبارات بھی انہی وجوہات کے تحت اپنی پالیسیاں بناتے ہوں گے ۔ لیکن جب آپ سوشل میڈیا پر آ کر  تحریر کی آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو اپنے قاری کو بھی کہنے کی آزادی دیں۔  پاکستان میں  لکھنے اور کہنے کی جو آزادی ہے وہ دنیا کے کئی آزادی اظہار کے چمپئن سمجھے جانے والے ممالک میں بھی موجود نہیں ہے  ۔  کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہم اس آزادی کو  برداشت ، تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ مزید تقویت دیں اور اپنے صحافتی فرائض کی بجا آوری کے لئے ان مواقع سے یوں مستفید ہوں کہ ہماری صحافت معیار  کی بلندیوں سے روشناس ہو سکے ۔  لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سارے شدت پسند گروہ اس آزادی سے ہمیں محروم کرنے کے درپے ہیں اور ہمارے صحافی دوستوں کا فرض ہے کہ ایسے کسی بھی گروہ کے نظریات سے متاثر ہو کر اپنی بنیادی تربیت کے خلاف نہ چلیں ۔
مکمل تحریر >>

نوجوان محققین کے لیے جدید نجی لائبریری

پاکستان میں حکومتی توجہ نہ ہونے کی بناء پر لائبریریوں کا فقدان ہے لیکن صوبے خیبر پختون خواہ کے ایک رہائشی نے اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت پشاور میں تعلیم و تحقیق کی غرض سے ایک لائبریری قائم کی ہے۔

فصیح الدین کی اس لائبریری میں تقریباً چودہ ہزار ملکی اور بین الاقوامی کتب اور رسالے موجود ہیں
تعلیم کی روشنی پھیلانے کے لیے اس ریسرچ لائبریری کے قیام کا سہرا پشاور کے ایک باہمت شہری فصیح الدین کے سر ہے، جنہوں نے اپنے ذاتی خرچ پر ایک ایسا کتب خانہ بنایا ہے، جس میں ہزاروں قیمتی، نایاب اور جدید کتابیں ہر وقت قارئین کے استفادے کے لیے موجود ہوتی ہیں۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے فصیح الدین کا کہنا تھا کہ پشاور کی اپنی نوعیت کی اس پہلی اور واحد تحقیقی لائبریری میں مختلف موضوعات پر تقریباً چودہ ہزار ملکی اور بین الاقوامی کتب اور رسالے موجود ہیں، جن تک ملک بھر کے نوجوان طلباء و طالبات اور ایم فل، پی ایچ ڈی کے سکالرز آسانی کے ساتھ رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

پانچ کمروں اور دو بڑے ہالوں پر مشتمل اس تحقیقی لائبریری میں روزانہ درجنوں افراد ریسرچ اور مصدقہ مواد کے تلاش میں آتے ہیں
اس کتب خانے میں رکھی گئی کتابوں کی تفصیل بتاتے ہوئے اُنہوں نے کہا:’’یہ لائبریری اس وجہ سے ممتاز ہے کیونکہ یہ پشاور کی واحد نجی لائبریری ہے۔ اس میں کریمنالوجی، سوشیالوجی، فلسفہ، پولیٹکل سائنس، اکنامکس، تاریخ، حالات حاضرہ، اسلامک سٹیڈیز، اقبالیات، انگلش لٹریچر ، اردو، پشتو اور فارسی ادب کی کتابیں اور رسالے اتنی تعداد میں موجود ہیں کہ یہ اور کہیں نہیں ہوں گے۔‘‘
وہ کہتے ہیں کہ نئی نسل میں کتب بینی کا رجحان بہت ہی کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ انٹرنیٹ پر انحصار کرنے لگے ہیں جو کہ ایک تشویش کی بات ہے اور اس سے تحقیق کا معیار بھی گر رہا ہے۔ فصیح الدین پشاور میں قائم کردہ اس ریسرچ لائبریری کے مقصد کے بارے میں کہتے ہیں:’’پشاور علمی طور پر مردنی اور ویرانی کا سماں پیش کر رہا تھا، ایسے میں ہم نے علمی اور ادبی زندگی کو پھر سے تازہ کیا ہے، اور جس شہر میں لائبریری نہ ہو، تو ہمارے ایک پروفیسر ایسے شہر کو مردہ شہر کہتے تھے۔‘‘
پانچ کمروں اور دو بڑے ہالوں پر مشتمل اس تحقیقی لائبریری میں روزانہ درجنوں افراد ریسرچ اور مصدقہ مواد کے تلاش میں آتے ہیں، جن کے لیے یہاں کے دروازے ہر وقت کھلے ہوتے ہیں۔

فصیح الدین اپنے کتب خانے میں ڈی ڈبلیو کے نمائندے دانش بابر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے
مطالعہ ہال میں بیٹھے ہوئے یونیورسٹی کے ایک طالب علم محمد کبیر کا کہنا تھا کہ تعلیم و تحقیق میں لائبریریوں کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور اس لائبریری سے وہ اور ان کے دوسرے ساتھی بہت زیادہ فائدہ حاصل کر رہے ہیں:’’پہلے ہم ادھر اُدھر پھرتے رہتے تھے۔ ایسی ایسی نایاب کتابیں ہیں، جوکہیں بھی نہیں ملتیں، یہاں تک کہ دوکانوں پر بھی نہیں ملتیں، لیکن یہاں پر یہ ہمیں آسانی کے ساتھ مل جاتی ہیں۔‘‘
کبیر کا کہنا ہے کہ اس قسم کے کتب خانوں کا قیام اصل میں حکومت کا کام ہے، جبکہ سرکاری سطح پر اس ضمن میں لاپرواہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس شہر میں کوئی بھی باقاعدہ تحقیقی لائبریری موجود نہیں ہے۔
فصیح الدین کہتے ہیں کہ ان کی لائبریری ایک انفرادی کاوش کا نتیجہ ہے، جس میں کسی بھی ادارے کی طرف سے مالی مدد نہیں کی گئی۔ ان کی یہ کوشش ہے کہ اس لائبریری کو پشاور یونیورسٹی کے احاطے کے قریب منتقل کر دیں تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ نوجوان طالب علم استفادہ کر سکیں۔
ایک اور طالب علم عامر اقبال کے مطابق اس لائبریری کی وجہ سے ان کو مقابلے کے امتحانات کی تیاری میں کافی مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی اس قسم کی لائبریریاں قائم کرنی چاہییں کیونکہ کتب بینی ہی سے صحت مند معاشرے تشکیل پاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فصیح الدین کی محنت سے قائم کردہ یہ تحقیقی کتب خانہ حکومتی اداروں کے لیے ایک زندہ مثال ہے۔
مکمل تحریر >>

یونیسکو کی نئی عالمی آن لائن لائبریری

یونیسکو نےانٹرنیٹ صارفین کے لیے ورلڈ لائبریری آف سائنس کا آغاز کر دیا ہے، جسے صارفین مفت استعمال کر سکیں گے۔ اس آن لائن لائبریری کے ذریعے طالب علم جدید ترین سائنسی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
یونیسکو کی جانب سے شروع کی گئی ورلڈ لائبریری آف سائنس یا ڈبلیو ایل او ایس کے ذریعے دنیا بھر میں سائنسی موضوعات پر ہونے والی جدید ترین تحقیق، مطالعے اور سائنسی جریدے موجود ہوں گے اور یہ لائبریری سائنس دانوں کے درمیان رابطے کے ایک ذریعے کا کام دے گی۔
اس لائبریری کے اہم مقاصد میں ترقی پذیر ممالک میں طلبہ کو مطالعے کے مساوی مواقع فراہم کرنا، تدریس کے معیار کو بڑھانا اور کھلے تعلیمی ذرائع کو فروغ دینا شامل ہیں۔ اس لائبریری میں اس کے آغاز پر سائنسی جرائد میں شائع ہونے والے تین سو سے زائد مضامین، 25 ای بکس اور 70 سے زائد ویڈیوز رکھی گئی ہیں جب کہ اس ویب پورٹل کی مدد سے طلبہ کلاسیں لینے کے ساتھ ساتھ گروپ بنا کر دیگر طلبہ اور اساتذہ سے رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔
یونیسکو کا کام دنیا بھر کی ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے
یونیسکو کی اس ورلڈ لائبریری آف سائنس کے اجرا میں نیچر ایجوکیشن اور روخے نے تعاون کیا ہے۔ یونیسکو کے مطابق اس لائبریری کے ذریعے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے طلبہ کو یہ موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ جدید سائنسی تحقیقی مقالوں تک رسائی کے ساتھ ساتھ دیگر طلبہ اور سائنس دانوں کے ساتھ اپنے تجربات بانٹیں اور سائنسی علوم میں ان سے صلاح مشورے اور مباحثے کریں۔
اس آن لائن لائبریری کا آغاز ورلڈ سائنس ڈے فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ 2014 کے موقع پر کیا گیا۔ اس لائبریری میں سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والے سائنسی مقالے بھی رکھے گئے ہیں۔
یونیسکو کے مطابق انتہائی اعلیٰ معیار کے اس تعلیمی مواد کو دنیا بھر کے طلبہ تک مفت پہنچانے کا مقصد جغرافیائی اور اقتصادی سطحوں سے بالاتر ہو کر طلبہ میں سائنسی فکر، مشاہدات، تحقیق اور مطالعے کا فروغ ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت کا قیام دوسری عالمی جنگ کے بعد سن 1945 میں عمل میں آیا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے انسانوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔
یونیسکو دنیا بھر میں ثقافتوں کی بقا اور ترویج کے لیے علم کی اہمیت کی بنیاد پر کام کرتا ہے اور اس ادارے کے مطابق یہ آن لائبریری جہاں ایک طرف طلبہ اور سائنس دانوں کے درمیان باہمی رابطے کا کام دے گی، وہیں دنیا کی مختلف ثقافتوں سے وابستہ افراد کے درمیان فکری بحث کے فروغ سے انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بھی بنے گی
مکمل تحریر >>

خیبر پختونخوا کی تاریخی لائبریری کی ڈیجیٹلائزیشن

جدید دور کے تقاضوں کے پیش نظر پشاور کی اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی سینٹرل لائبریری کی ڈیجیٹلائزیشن شروع کر دی گئی ہے تاکہ طلبہ اور محققین کو گھر بیٹھے ہوئے بھی اس کتب خانے کے علمی خزانے تک رسائی حاصل رہے۔
قیام پاکستان سے قبل 1913ء میں قائم کردہ اس تاریخی لائبریری میں نوے ہزار سے زائد کتابیں اور 1261 قلمی نسخے یا مخطوطے قارئین کے مطالعے کے لیے دستیاب ہیں۔ جدید دور کے تقاضوں اور قارئین کی سہولت کے لیے حال ہی میں یونیورسٹی انتظامیہ نے لائبریری کی کمپیوٹرائزیشن کا کام شروع کردیا اور آئندہ ان تمام کتب تک یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے ذریعے رسائی ممکن ہو گی۔
اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی سینٹرل لائبریری کے چیف لائبریرین تحسین اللہ خان کے بقول عالمی سطح پر کتب خانوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا سلسلہ بہت پہلے شروع ہو گیا تھا لیکن پاکستانی تعلیمی اداروں میں چونکہ آئی ٹی سسٹم متعارف کرانے کا عمل سست رفتار رہا ہے، اس لیے شروع میں اس طرف بہت زیادہ توجہ نہ دی جا سکی۔ اب لیکن جگہ جگہ اس حوالے سے کام میں تیز رفتاری دیکھنے میں آ رہی ہے، جو وقت کی ضرورت بھی ہے۔
تحسین اللہ خان نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’کتابوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کی وجہ سے لائبریری کے ریکارڈ کو مینوئل سطح پر برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔ پھر نئے دور کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری یہ خواہش بھی تھی کہ ہم اس کتب خانے کو ڈیجیٹل سسٹم میں لے آئیں۔‘‘
اب تیرہ ہزار مربع فٹ رقبے پر پھیلے ہوئے اس تاریخی کتب خانے کو ایک طرف اگر ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تودوسری طرف اس لائبریری میں موجود قدیم قلمی نسخے عام قارئین کے ساتھ ساتھ اہل علم کی دلچسپی کا مرکز بھی بنتے جا رہے ہیں۔
ایسے قدیم نسخوں اور صدیوں پہلے لکھی گئی قلمی دستاویزات کے بارے میں ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے تحسین اللہ خان کا کہنا تھا، ’’ہمارے پاس ہاتھ سے لکھی گئی کئی ایسی کتابیں اب بھی اصلی حالت میں موجود ہیں جو مثال کے طور پر قریب 1200سال پرانی ہیں۔ ایسی کتابیں یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں بھی موجود نہیں ہیں۔‘‘
لائبریری میں موجود قدیم نسخوں کا ذکر کرتے ہوئے چیف لائبریرین کا کہنا تھا کہ ابوالفرج علی بن حسین اصفہانی کی ’کتاب الاغانی‘ چوتھی صدی ہجری میں لکھی گئی تھی، جوکہ عربی زبان کی ایک قدیم کتاب ہے، جس میں مشہور شخصیات کی سوانح یا سیرت کا تذکرہ ہے۔ تحسین اللہ خان کے بقول اس لائبریری میں عربی، فارسی، پشتو اور پنجابی زبانوں کے ایسے بہت سے نایاب نسخے بھی موجود ہیں، جن کو مختلف مصنفوں نے اپنے اپنے دور میں بڑی محنت سے ہاتھوں سے لکھا تھا۔
پشاور کی تاریخی اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی عمارت
اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی اس لائبریری کے سابق کارکن سید سیار بادشاہ کہتے ہیں کہ اس کتب خانے میں اسلامی اور دیگر تحقیقی کتب کا ایک بڑا خزانہ موجود ہے، جس سے طالب علموں کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگ بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ سیار بادشاہ کہتے ہیں کہ لائبریری کی ڈیجیٹلائزیشن سے اب دنیا بھر میں کوئی بھی قاری اس کتب خانے سے فائدہ اٹھاسکے گا۔
اس کتب خانے کے لیے تین عشروں تک پیشہ ورانہ خدمات انجام دینے والے سیار بادشاہ نے کہا کہ اس لائبریری کی خاص بات اس کا وہ میوزیم بھی ہے، جس میں تاریخی کتابوں کے ساتھ ساتھ کئی دیگر نوادرات بھی محفوظ ہیں۔
چیف لائبریرین تحسین اللہ خان کے بقول کتب خانے کسی بھی معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی تمام بڑی لائبریریاں عہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں اور ہر طرح کے قارئین کو ہر قسم کی کتابیں مطالعے کے لیے آن لائن اور آف لائن دونوں صورتوں میں دستیاب ہوں۔
مکمل تحریر >>

بس بُک لائبریری: نوجوانوں تک کتابیں پہنچانے کا انوکھا ذریعہ

یک حالیہ حکومتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2015 تک نوجوانوں میں شرح خواندگی سمیت دیگر میلینئم اہداف کا حصول مشکل ہے۔ ملک کی مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہے جبکہ ہزاریہ اہداف کے مطابق یہ شرح 88 فیصد تک لے جانا ہے۔
ان حالات میں پاکستان میں ایک غیر حکومتی تنظیم نے بچوں اور نوجوانوں میں پڑھنے کی لگن اور ان تک کتابیں پہچانے کے لیے ایک انتہائی دلچسپ اور مؤثر ذریعہ اختیار کر رکھا ہے۔ یہ ذریعہ ہے بس لائبریری۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ جو بچے خود لائبریری نہیں آسکتے، کتابیں خود ان کے پاس پہنچ جائیں
اس کا مقصد یہ ہے کہ جو بچے خود لائبریری نہیں آسکتے، کتابیں خود ان کے پاس پہنچ جائیں
لاہور کے علاقے گلبرگ کے ایک کمیونٹی پارک میں گھنے درختوں کے سائے تلے ایک بس کھڑی ہے۔ رنگ برنگ کارٹونوں کی تصاویر سے سجی اس بس میں 8 سے 14 برس کی عمر کے بچے نہایت دلچسپی کے ساتھ کہانی کی کتابیں پڑھنے میں مگن ہیں۔ یہ ہے پاکستان میں بچوں کی پہلی موبائل بس لائبریری، جسے الف لیلیٰ بُک بس لائبریری کا نام دیا گیا ہے۔ بس میں داخل ہوتے ہی دلکش تزین و آرائش، شیلف میں سلیقے سے سجی رنگا رنگ کتابیں، آرام دہ فلور کُشن اور ایک کونے میں چھوٹی عمر کے بچوں کے لیے مختص کی گئی جگہ پر سجائے گئے کھلونے، بچوں کی دلچسپی کو فوری طور پر اپنی جانب راغب کر لیتے ہیں۔ یہاں موجود بعض بچے کہتے ہیں کہ ان کے لیے یہ کسی بھی لائبریری میں کتابیں پڑھنے کا یہ پہلا موقع ہے اور یہاں ایک دفعہ آنے کے بعد وہ بار بار اس لائبریری میں اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھنے کے لئے رخ کرتے ہیں: ’’یہ بہت اچھی لائبریری ہے۔ یہاں بہت ہی اچھی بُکس ہیں۔ یہاں سے جانے کا دل نہیں چاہتا اسلئے میں یہاں روز آتی ہوں‘‘
الف لیلیٰ بُک بس سوسائٹی نامی غیر سرکاری تنظیم نے 35 برس قبل اس لائبریری کی بنیاد ڈالی تھی۔ اس منصوبے سے وابستہ سحر نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بچوں کو کتب بینی کی جانب راغب کرنے کے لیے پاکستان میں پہلی بار اس خیال کو متعارف کروایا گیا تھا، ’’ابتدا میں ہم نے یہ لائبریری ایک ڈبل ڈیکر بس میں شروع کی تھی جو لاہور میں چلا کرتی تھی۔ یہ بات ہے 1978-79 کی۔ اس کے بعد ڈبل ڈیکر بسیں چلنا بند ہو گئی لیکن ہم نے اس لائبریری کو جاری رکھا جو اب بھی موجود ہے جہاں بچے آج بھی آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری موبائل لائبریری بھی ہے جو اسکولوں میں جاتی ہے۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی لائبریری ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو بچے خود لائبریری نہیں آسکتے، کتابیں خود ان کے پاس پہنچ جائیں۔‘‘
اس لائبریری کو ابتدا میں نجی اسکولوں کے طالبعلوں کو اپنی جانب مائل کیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں سرکاری اسکولوں کے بچوں نے بھی دلچسپی لینا شروع کردی۔ یہاں کی لائبریرین اسماء مشتاق کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر تعطیلات میں تقریباً 100 سے زائد بچے کتب بینی کا شوق پورا کرنے آتے ہیں۔
دو موبائل لائبریریاں لاہور کے مختلف اسکولوں میں لے جائی جاتی ہیں
دو موبائل لائبریریاں لاہور کے مختلف اسکولوں میں لے جائی جاتی ہیں
الف لیلیٰ موبائل بُک لائبریری اب صرف لاہور میں ہی نہیں بلکہ سحر کے مطابق دیگر شہروں میں بچوں کو کتب بینی کی جانب راغب کرنے میں کردار ادا کرنے کے لئے پُر عزم ہے، ’’لاہور میں موجود ڈبل ڈیکر بس میں موجود لائبریری کو اب صرف کم عمر بچوں کے لیے مختص کر دیا گیا ہے۔ ہماری یہاں ساتھ ہی ایک ریفرنس لائبریری ہے جس میں تین سے چار ہزار کتابیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دو موبائل لائبریریاں ہیں جو لاہور کے مختلف اسکولوں میں لے جائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک لائبریری لاہور کے نواح میں شیخوپورہ تک بھی جاتی رہی ہے۔ اب ایک حالیہ منصوبے کے مطابق ہم اس موبائل لائبریری کو ملتان اور مظفر گڑھ کے 40 اسکولوں تک لے جائیں گے جبکہ 140 اسکولوں میں ہم لائبریری کارنر بنا رہے ہیں۔‘‘
اس بس لائبریری کی کامیابی کو سامنے رکھتے ہوئے اگر پاکستانی حکومت اور بین الاقوامی تنظیمیں اس پروگرام کو وسعت دینے کے لیے تعاون فراہم کرتی ہیں تو نوجوانوں تک کتابیں لے جانے کا یہ سلسلہ پورے ملک میں پھیل سکتا ہے اور نئی نسل کی علم اور معلومات کی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔
رپورٹ: عنبرین فاطمہ، کراچی
مکمل تحریر >>

کتاب اور جھاڑن والی خالہ



وسعت اللہ خان
21.03.2015
---
مرحوم حکیم محمد سعید نے جب کراچی کے مضافات میں مدینتہ الحکمت کے نام سے ایک علمی شہر بسایا
تو سب سے زیادہ توجہ اس شہرِ علم کے کتب خانے ’’ بیت الحکمت ’’ پر دی۔
میں حکیم صاحب کے جمع کردہ کتابوں کے اس عظیم الشان ذخیرے کو دیکھ کے خاصا متاثر ہوا تو حکیم صاحب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ کہنے لگے پیرزادہ میں اتنا بڑا کتب خانہ صرف کچھ لوگوں کی علم سے بے بہرہ ناخلف اولاد کی مہربانیوں سے ہی بنا پایا ہوں۔
میں نے حکیم سعید کی جانب تکتے ہوئے پوچھا کیا مطلب ؟ کہنے لگے کہ پیرزادہ جب میں نے سنا کہ فلاں فلاں صاحب کے مرتے ہی ان کے اہلِ خانہ نے پہلے تو ان کے کتابوں کے ذخیرے کو اپنے گیرج ، بیسمنٹ ، انیکسی یا سرونٹ کوارٹر میں منتقل کردیا
اور پھر ایک دن کوئی پرانی کتابوں کا سوداگر انھیں تول کر بیس پچیس ہزار میں لے گیا اور پھر پورا کتب خانہ ریگل کے فٹ پاتھ پر کتاب در کتاب بکنے کے لیے رکھ دیا گیا
تو میں نے فیصلہ کیا کہ ایسے تمام عاشقانِ کتب کی فہرست بنوائی جائے جن کی عمر ساٹھ پینسٹھ برس سے زائد ہے۔اور پھر چند علمی جاسوسوں کی ڈیوٹی لگائی کہ جونہی ان میں سے کوئی اس جہان سے کوچ کرے اس کا کتب خانہ منہ مانگے داموں خرید لیا جائے
اس سے پہلے کہ وہ ٹھیلوں اور فٹ پاتھوں پر منتقل ہوجائے۔ چنانچہ تم جس کتب خانے کو میرا کارنامہ سمجھ رہے ہو بخدا اس میں میرا حصہ اتنا ہے کہ میں نے ان یتیم و بے سہارا کتابوں کو ایک چھت فراہم کردی ہے اور بس۔۔۔
( یہ واقعہ ضیا الدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے دو روز قبل نیشنل بک فاؤنڈیشن کراچی کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب کے دوران سنایا )۔
اس واقعے سے مجھے یاد آیا کہ آوازوں کے عاشق لطف اللہ خان جنہوں نے ساٹھ ستر برس کی عرق ریزی سے پاکستان کی سب سے بڑی نجی صوتی لائبریری میں ادب و فن و موسیقی و سیاست سے منسلک بیسویں صدی کی ہزاروں نایاب آوازوں کا خزانہ جمع کر دیا۔
ان کی وفات کے بعد یہ صوتی لائبریری کسی ایسے قدر دان کی منتظر ہے جو اسے گود لے کر بہت پیار سے رکھے۔مگر اب تک لطف اللہ خان صاحب کی بیوہ کو اس بارے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔
خریدار آ تے ضرور ہیں مگر پورے ذخیرے کے نہیں اپنی اپنی پسند کے ٹکڑے خریدنے کے لیے۔لہذا بات اب تک بنی نہیں ہے۔
بات کتابوں کی کرتے کرتے میں بھی جانے کہاں نکل گیا۔بطور کتابی کیڑا مجھے یہ جان کے خوشی ہوئی کہ نیشنل بک فاؤنڈیشن اپنی شایع کردہ کتابوں پر پچاس سے پچپن فیصد رعایت دیتی ہے۔
چنانچہ گذشتہ مالی سال کے دوران ادارے کے سربراہ انعام الحق جاوید کے بقول فاؤنڈیشن کو کتابوں کی فروخت سے لگ بھگ ستائیس کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ یعنی اگر یہی کتابیں پوری قیمت پر فروخت ہوتیں تو ان کی ویلیو چون کروڑ روپے بنتی ہے۔
ایک ایسے سماج میں جہاں عمومی تاثر یہی ہے کہ لوگ کتاب کے بجائے چکن تکہ خریدنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اتنی کتابیں فروخت کردینا قابلِ ستائش ہے۔اور اگر نیشنل بک فاؤنڈیشن فرمائشی ، سفارشی اور یار دوست ٹائپ مصنفین کو زیادہ چھاپنے کے بجائے وہ کتابیں چھاپے جنھیں واقعی عام لوگ اور طلبا پڑھنا اور خریدنا چاہتے ہیں
مگر کمرشل مفادات کے اسیر اشاعت گھروں کی مسلط کردہ غیر منطقی قیمت کے سبب نہیں خرید سکتے تو اصل خدمت یہی ہوگی کہ جس کے لیے نیشنل بک فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں آیا تھا۔
اس سے بھی اہم ضرورت کسی ایسے ادارے کی ہے جس کا کام صرف یہ ہو کہ وہ غیر اردو میں شایع تعلیمی و سائنسی و ادبی کتابوں اور تحقیق کو اردو میں شایع کرے۔اس باب میں ہمارے بزرگ جامعہ عثمانیہ کے دارالترجمے کے قصے آہیں بھر بھر کے سناتے ہیںجہاں جوش صاحب اور مولانا مودودی جیسے اکابرین نے بھی وقت گذارا۔سلطنتِ عثمانیہ کے اس دارالترجمہ کی شہرت یہ تھی
کہ اس دور میں جو بھی دستیاب اہم سائنسی و غیر سائنسی لٹریچر باقی دنیا بالخصوص یورپ میں شایع ہوتا تھا اس کا اردو ترجمہ حیدرآباد دکن کے اس دارالترجمہ میں فوراً کرکے کتابی شکل میں شایع کیا جاتا۔
یوں عثمانیہ یونیورسٹی برصغیر کا واحد علمی ادارہ تھا جہاں جدید سائنسی علوم کی تدریس بھی اردو میں ہوتی تھی۔
ویسے بھی ترجمے کا فن مسلمانوں کی میراث ہے۔مغرب کے دورِ جہالت میں دبے قدیم یونانی لٹریچر کو اگر آٹھویں ، نویں اور دسویں صدی کے عرب مترجم دستیاب نہ ہوتے تو شائد یونان کا علمی چہرہ سامنے ہی نہ آتا
اور پھر جانے پھر مغرب کا علمی انقلاب اور کتنی صدیاں آگے کھسک جاتا۔
میری نسل کو اگر ماسکو اور بیجنگ کے غیر ملکی زبانوں کے اشاعت گھروں میں ترجمہ شدہ روسی و چینی لٹریچر سستے داموں میسر نہ آتا تو شائد ہم لوگ کنوئیں کے مینڈکوں کی طرح برِصغیری ادب کے گرد ہی گول گول گھوم رہے ہوتے۔
سن دو ہزار دس میں پراگ میں چار ماہ گذارنے کے سبب مجھے احساس ہوا
کہ کسی بھی معاشرے کو ذوقِ مطالعہ میں جکڑنے اور اسے باقی دنیا کے علمی رجحانات سے جوڑنے کے لیے فوری اور معیاری ترجمہ کتنا اہم ہے۔مجھے بتایا گیا کہ چیک ری پبلک کی آبادی سوا کروڑ کے لگ بھگ اور خواندگی کا تناسب ننانوے فیصد ہے۔
صرف پراگ میں کتابوں کی اسی سے زائد بڑی دکانیں ہیں اور ان میں نصف کتابیں وہ ہیں جو پچھلے ایک برس کے دوران دنیا کی مختلف زبانوں میں شایع ہوئیں اور اب چیک زبان میں دستیاب ہیں۔ایسی ہی ایک دکان پر مجھے محمد حنیف کا ناول ’’ اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز’’ بھی چیک زبان میں نظر آگیا۔جسے اس وقت تک انگریزی میں شایع ہوئے شائد سال بھی پورا نہیں ہوا تھا۔
پاکستان میں لوگ بھلا ایک دوسرے کو کیسے جانیں جب کہ بین الاقوامی علمی کام تو رہا ایک طرف علاقائی زبانوں کا نوے فیصد لٹریچر نہ تو قومی زبان میں اور نہ ہی کسی دوسری علاقائی زبان میں منتقل ہو پایا ہے۔
اگر کسی نے اپنے طور پر اکا دکا چیزوں کا ترجمہ کربھی دیا ہے تو اس کی یہ کوشش اونٹ کے منہ میں زیرے سے زیادہ کچھ نہیں۔بہت اچھی بات ہے کہ یہاں اقبالیات پر ایک پورا ادارہ کام کررہا ہے، مقتدرہ قومی زبان میں ڈکشنری کے ایک ایک لفظ پر پسینہ بہہ رہا ہے۔
اردو سائنس بورڈ غیر سائنسی متروک کتابیں نکال کے لا رہا ہے۔مجلسِ ترقی ادب اپنی بقا کے جواز کے لیے چھوٹی موٹی تقریبات کرتی رہتی ہے۔
پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز بھی کلاسیکل ادب کو ری سائیکل کرنے میں دلچسپی لیتی ہے۔لیکن اگر نہیں ہے تو قومی دارالترجمہ نہیں جو پاکستان کے علاقائی ادب اور خود پاکستان کو بین الاقوامی علمی و مطالعاتی نقشے میں رکھ سکتا ہے۔
عام لوگ بالخصوص نئی نسل مطالعے کی پیاسی ضرور ہے لیکن اردو میں اسے زیادہ تر ری سائکلڈ یا مذہبی و فرقئی لٹریچر ہی دستیاب ہے۔یقین نہ آئے تو کسی بھی کتابی نمائش میں چلے جائیے۔
ہاں انگریزی کی کتابیں مہنگی ہونے کے باوجود فروخت ہو رہی ہیں۔کیونکہ اچھے انگریزی میڈیم اسکولوں اور مطالعہ دوست مڈل کلاس اقلیت میں اپنے بچوں کو جدید لٹریچر سے جوڑنے کا رجحان معاشی آسودگی کے سبب پہلے کی نسبت زیادہ فروغ پا رہا ہے۔
اور کتابی میلوں کے فیشن اور ان میلوں میں معروف مصنفوں کی شرکت اور انھیں سننے اور ملنے کا گلیمر اس رجحان کو بڑھانے میں خاصا کردار نبھا رہا ہے۔
لیکن جو بچے اردو میڈیم اسکولوں میں پڑھنے پر مجبور ہیں اور جن کے والدین کے معاشی حالات بھی زیادہ بہتر نہیں۔ان کے لیے زنگ آلود گرد سے اٹے شیلفوں والی اسکولی و پبلک لائبریریاں ہیں۔جہاں آخری کتاب شائد انیس سو اڑسٹھ میں خریدی گئی ہو۔
آپ نے کراچی کا فرئیر ہال یا اس کی تصویر تو دیکھی ہوگی۔کیسی شاندار عمارت ہے۔اس کے گراؤنڈ فلور پر ایک بڑے سے ہال میں پبلک لائبریری بھی ہے۔جہاں ساٹھ ساٹھ واٹ کے تین بلب دائمی تاریکی سے کشتم کشتا رہتے ہیں۔
کتابوں کے شیلف آخری مرتبہ شائد جانے کب جھاڑے گئے ہوں گے۔لاچار لائبریرین نے بتایا کہ جھاڑن والی خالہ کہ جن کی عمر ستر سے اوپر ہے طبیعت کی خرابی کے سبب کبھی کبھار ہی آتی ہیں۔یہ صرف ایک پبلک لائبریری کا احوال نہیں
۔لگ بھگ ہر سرکاری لائبریری پر جھاڑن والی خالہ ہی کا راج ہے۔ہاں مگر لاڑکانہ کی سر شاہ نواز بھٹو لائبریری میں آج بھی صبح دروازہ کھلنے سے پہلے طلبا اور سینئر سٹیزنز کھڑے ہوتے ہیں کہ کب دروازہ کھلے اور کب وہ اندر جا کے کرسیوں پر قبضہ کریں تاکہ دن بھر مطالعے کے لیے بیٹھنے کی جگہ مل سکے۔
یہی حال بہاولپور کی پبلک لائبریری کا بھی دیکھا اور جی خوش ہوگیا۔مگر یہ جی ہر نجی اشاعت گھر اور ہر پبلک لائبریری میں جا کر کب خوش ہوگا ؟
سردار جی کی سالگرہ پر کوئی دوست وہسکی کی بوتل لایا تو کوئی کرتہ سوٹ لے کر آیا تو کوئی مٹھائی سے لدا پھندا آیا۔ ایک دوست کتاب کا تحفہ لائے۔سردار جی نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا یار اس کی کیا ضرورت تھی میرے پاس پہلے ہی تین ہیں۔
کتابوں کے بارے میں ہمارا حال و خیال کیا سردار جی سے مختلف ہے ؟
مکمل تحریر >>

سابق امریکی صدور کی لائبریریاں ، عصر حاضر کی تاریخ

مام عالمی رہنماؤں کے لیے آسان نہیں ہے کہ وہ اپنی مدت اقتدار کے بعد بھی عوامی سطح پر دور روس یادیں چھوڑ جائیں لیکن امریکی صدور کے لیے یہ کام قدرے سہل ہے۔
امریکی صدور جب اپنی مدتِ صدارت مکمل کر کے وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوتے ہیں تو انہیں ایک عوامی لائبریری کے قیام کا اعزاز حاصل ہوتا ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنے دور اقتدار کے اہم دستاویزات کی نمائش کرتے ہیں بلکہ اس لائبریری کے ساتھ ہی ایک میوزیم بھی متصل ہوتا ہے۔ عمومی طور پر سابق صدور اپنے آبائی شہر میں اس طرح کی لائبریریاں قائم کرتے ہیں۔
سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے اپنی لائبریری کیلی فورنیا کے شہر سِمی ویلی میں بنائی، بل کلنٹن نے یہ یادگاری عمارت ریاست آرکنساس کے دارالحکومت لٹل راک میں قائم کی جبکہ جارج ڈبلیو بش نے اپنے دور اقتدار کی یادوں کو ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں عام کیا۔
موجودہ امریکی صدر باراک اوباما اگرچہ مزید دو برس وائٹ ہاؤس میں گزاریں گے لیکن انہوں نے اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ابھی سے ہی اپنی لائبریری کے قیام کے حوالے سے کام شروع کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق وہ شکاگو میں یہ لائبریری قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں سے انہوں نے بطور کمیونٹی آرگنائزر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
1933ء تا 1945ء صدر کے عہدے پر براجمان رہنے والے ڈیموکریٹ سیاستدان فرنکلین روزویلٹ نے پہلی مرتبہ اس روایت کی بنیاد ڈالتے ہوئے اپنی لائبریری قائم کی تھی، جہاں ان کے دور اقتدار کے انتہائی اہم اور نادر دستاویزات رکھے گئے تھے۔ عام عوام بالخصوص تاریخ دان، سیاسیات سے شغف رکھنے والے افراد اور سیاح ایسی لائبرئریوں میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما بطور کمیونٹی آرگنائزر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا
ایسی ہی ایک لائبریری ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں بھی واقع ہے، جہاں لِنڈن بی جانسن کے دور اقتدار کی دستاویزات اور ان کی ٹیلی فون ریکارڈنگز بھی موجود ہیں۔ اس لائبریری میں جانے والے دیوار پر لگے ٹیلی فون کا ریسور اٹھاتے ہیں تو وہ جانسن کی ریکارڈ کی ہوئی گفتگو سن سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ عمارتیں صرف لائبریریاں نہیں بلکہ ان میں عصر حاضر کی تاریخ سمیٹ دی گئی ہے۔
ان لائبریریوں کا مقصد امریکا کے مختلف صدور کے دور اقتدار میں ’کیا ہوا، اور کیسے کیا گیا‘ جیسے سوالات کے جواب دینا ہے بلکہ ساتھ ہی یہاں ان گنت ان کہی کہانیاں بھی ملتی ہیں۔ ان عمارتوں میں جا کر امریکی صدور کے دور میں کیے جانے والے فیصلوں اور اقدامات کے بارے میں غیرجانبدار پہلوؤں کے بارے میں بھی آگاہی ملتی ہے۔
کینٹکی میں واقع یونیورسٹی آف لوئیس ول سے وابستہ پروفیسر بینجمن ہوفباؤئر اس روایت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دراصل یوں امریکی صدور کی ان لائبریریوں اور میوزیمز میں جا کر ان کے دور اقتدار کے بارے میں متعدد پہلو اجاگر ہوتے ہیں اور عوام سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں نے بطور صدر کیا کیا فیصلے کیے اور ان کے کیا اثرات نکلے۔
بینجمن ہوفباؤئر کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ صدر کی آخری مہم ہوتی ہے، جس دوران وہ کوشش کر سکتا ہے کہ اسے تاریخ میں کس قدر بہتر مقام حاصل ہو سکتا ہے، ’’ان لائبریریوں اور میوزیمز کا بنانے کا مقصد صرف یہی ہے۔‘‘
مکمل تحریر >>

کتاب اورکتب بینی کا فروغ


قومی ورثے سے شناسائی کسی حکومتی مہم کی منتظر نہیں ہوتی، بلکہ بحیثیت قوم ہمارا فرض ہے کہ ہمیں اپنے ادبی وثقافتی اداروں سے واقفیت ہو۔ایمانداری سے بتائیں ،ہم میں سے کتنے فیصد حضرات ان اداروں کے ناموں سے بھی واقف ہیں ؟ اس سوالیہ نشان میںہی بہت کچھ پنہاں ہے۔یہی ہماری حب الوطنی کا حقیقی عکس ہے۔چودہ اگست کے دن جھنڈا لہرا لینے سے صرف حب الوطنی کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ پاکستان سے غربت،جہالت اورمنفی جذباتیت کاخاتمہ اسی صورت ممکن ہے،جب اپنے ملک سے حقیقی محبت ہوگی۔جب ہم اپنی ثقافت سے روشناس ہوں گے، ہمیں اپنی علاقائی زبانوں سے تعلق خاطر ہوگا اور قومی زبان بولنے اور لکھنے پر فخر محسوس کریںگے۔ان سب پہلوئوں پر عمل کیے بغیر مشکل ہے کہ ہم مہذب قوم بن سکیں۔یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا قومی ورثہ ایساہے ،جس کی وجہ سے ہم دنیا کی کسی بھی قوم کے سامنے خود کو ثقافتی لحاظ سے پیش کرسکتے ہیں،مگربڑے دکھ کی بات ہے ،ہم ایک ایک کرکے وہ تمام احساسات کھورہے ہیں،جومہذب دنیا میںآپ کا تعارف ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ادب وثقافت کے تناظر میںچند ایسے سرکاری ادارے ہیں،جن کے بارے میں جان کرحیرانی ہوتی ہے ،یہ ادارے ہمارے ہی ملک میں موجود ہیں۔عام آدمی تک ان کے بارے میں معلومات پہنچانے کا کوئی سرکاری انتظام نہیں ہے۔کئی ادارے تو ایسے ہیں،جن کا عرصہ دراز سے کوئی صدرنشیں بھی نہیں ہے۔پاکستان میں اگر ان سرکاری اداروں کی مناسب سرپرستی کی جاتی اورسفارشی لوگ تعینات نہ کیے جاتے ،تو ہمارے معاشرے میں ادب وثقافت سے شناسائی کے لیے یہ ادارے کلیدی کردار ادا کر سکتے تھے۔ پاکستان میں سرکاری سطح پر قائم کیے گئے چند بڑے اداروں ،جن میں لوک ورثہ،پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس،مقتدرہ قومی زبان،قومی کونسل برائے فروغ اردو،انجمن ترقی اردو پاکستان،اکادمی ادبیات،اردو لغت بورڈ،نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس اورنیشنل بک فائونڈیشن شامل ہیں جب کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم آرٹس کونسلوں اور میوزیمز کا ایک الگ مربوط سلسلہ ہے۔ ان سب اداروں سے تاریخ،علم وادب، زبان، ثقافت اور قومی تشخص کا ایک مضبوط رشتہ ہے،مگر جس طرح ان اداروں کو عوام سے اپنا تعلق استوار کرنا چاہیے تھا،وہ نہیں کیا گیا،یہی وجہ ہے، بیرونی ثقافتوں نے ہماری قومی شناخت پراپنے منفی اثرات مرتب کیے۔ ہمارے عوام کی اکثریت کو نہ اپنے ثقافتی ستونوں کی خبر ہے اور نہ ہی اپنے مشاہیر کا پتہ،جنہوں نے ادب وثقافت کے شعبے میں اپنی زندگیاں کھپا دیں۔ہمارے ذرایع ابلاغ بھی صرف چند ناموں کی گردان جاری رکھتے ہیں۔ یہ ہمارا قومی المیہ ہے، ہم نے ادارے بنائے،ان سے ویسا کام نہیں لیا۔ہمارے ہاں بڑی شخصیات پیدا ہوئیں،ہم نے ان کی قدرنہیں کی۔ہم نے اداروں کو چلانے کے لیے سفارشی نظام کو متعارف کروایا۔اس کے باوجود چند ایک ادارے اپنے تئیں اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ ملک وقوم کے لیے حقیقی معنوں میں ادب وثقافت کو محفوظ کرسکیں۔نیشنل بک فائونڈیشن بھی ایسا ہی ایک ادارہ ہے،جو کچھ برسوں سے پاکستان بھر میں کتاب اورکتب بینی کے فروغ میں کوشاں ہے۔ نیشنل بک فائونڈیشن1972میں قائم کیا گیا تھا۔یہ وفاقی ادارہ ہے،جو وزارت تعلیم کے ماتحت ہے۔اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں واقع ہے جب کہ چاروں صوبوں ،سندھ،بلوچستان،پنجاب اورپختونخوا میں اس کے علاقائی دفاتر قائم ہیں جو بالترتیب،کراچی،کوئٹہ،لاہور اورپشاور میں واقع ہیں۔ان کے علاوہ پاکستان کے دیگر شہروں میں نیشنل بک فائونڈیشن کی ذیلی شاخیں بھی قائم ہیں،جن میں حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، جیکب آباد، خیرپور، بہاولپور، ملتان ،فیصل آباد،واہ کینٹ ،ایبٹ آباد،ڈیرہ اسماعیل خان، مظفرآباد اورگلگت شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر کتابوں کی دکانیں بھی قائم کی گئی ہیں،جہاں سے اس ادارے کے متعلق نہ صرف معلومات حاصل ہوسکتی ہے، بلکہ کتابیں سستے داموں دستیاب ہیں اور اپنی مطلوبہ کتابیں منگوائی بھی جاسکتی ہیں۔اس ادارے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اس کی ویب سائٹ بھی دیکھی جاسکتی ہے،جسے گوگل پر صر ف’’ نیشنل بک فائونڈیشن‘‘ لکھ کر باآسانی تلاش کیاجاسکتاہے۔ ان متعلقہ شہروں اور قرب وجوار میں رہنے والے قارئین اورطالب علم نیشنل بک فائونڈیشن کی مندرجہ ذیل سہولتوں سے مستفید ہوسکتے ہیں۔سب سے پہلی اوربنیادی سہولت یہ ہے کہ نیشنل بک فائونڈیشن نے پاکستان کے 47شہروں میں ’’ریڈرزکلب ‘‘کے نام سے ممبر شب کی سہولت دے رکھی ہے،جس کو حاصل کرنے کے بعد کتابوں پر پچاس فیصد یا اس سے زاید رعایت حاصل کی جاسکتی ہے۔ کتابوں کی زیادہ قیمت کے شکوے کواس پیشکش کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے،خاص طور پر طلبا جن کا بجٹ ویسے ہی بہت محدود ہوتا ہے،وہ اس کارآمد پیشکش سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن کی طرف سے دوسری اہم سہولت ،مطالعے کے ختم ہوتے رجحان کو دوبارہ سے زندہ کرنا ہے،اس کے لیے انھوںنے ’’بک کلب‘‘تشکیل دیے ہیں۔یہ چلتے پھرتے کتب خانے شہروں،گائوں دیہاتوں، جیلوں ،اسپتالوں ،ریلوے اسٹیشنز اورہوائی اڈوں پر کتاب پڑھنے کی سہولت دیتے ہیں۔مثال کے طور پر آپ کراچی سے لاہور جارہے ہیں،تو کراچی کے ریلوے اسٹیشن پر نیشنل بک فائونڈیشن کی قائم کردہ کتابوں کی دکان پر اپنا قومی شناختی کارڈ جمع کرواکرپسندیدہ کتاب حاصل کریں اور لاہور پہنچ کر اسی ادارے کی کتابوں کی دکان پر وہ کتاب واپس کرکے اپنا قومی شناختی کارڈ واپس لے لیں،ایسی سہولت سے سفر کی لذت دوبالا کی جاسکتی ہے۔ نیشنل بک فائونڈیشن کی طرف سے ناخواندہ اور بینائی سے محروم افراد کے لیے بھی ایسی کتابیں شایع کی گئیں،جن سے وہ استفادہ حاصل کرسکیں۔اسپتالوں میں مریضوں ،جیلوں میں قیدیوں ،آمدورفت کے دوران مسافروں کے لیے مطالعے کی سہولت دی گئی ہے۔اسکول کے بچوں کے لیے ایسی کتب شایع کی گئی ہیں،جن کو پڑھ کر ان میں مطالعے کے رجحان میں اضافہ ہوسکے،صرف یہی نہیں بلکہ بچوں کے لیے لکھی گئی بہترین کتابوں پر صدارتی اعزاز بھی دیا جاتا ہے۔پاکستان کے تابناک مستقبل کے لیے اس طرح کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ نیشنل بک فائونڈیشن کی طرف سے ایک کام یہ بھی کیاگیا کہ مختلف شہروں میں نامورشعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ’’کتابوں کا سفیر‘‘مقررکیاگیا،جن کے ذریعے ان شہروں میں کتب بینی کے فروغ کے لیے ان کی بلامعاوضہ خدمات حاصل کی گئیں۔یہ ایک اچھا خیال ہے،مگر ان میں سے اکثریت ایسے سفیروں کی تھی، جنھیں کتاب اور کتب بینی کے فروغ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، اس لیے سوائے چند ایک سفیروںکے ،کسی نے اس ذمے داری کو احسن انداز میں نہیں نبھایا۔ نیشنل بک فائونڈیشن کے موجودہ صدرنشین کانام ڈاکٹر انعام الحق جاوید ہے،یہ رواں برس ہی اس ادارے سے وابستہ ہوئے ہیں۔یہ ماہرتعلیم،کئی کتابوں کے مصنف اور شاعر ہیں۔کتاب اورکتب بینی کے رموز سے بخوبی واقف ہیں ۔ گزشتہ دنوں یہ کراچی اپنے صوبائی دفترتشریف لائے،تو انھوں نے سینئر صحافیوں کو بھی مدعو کیا۔ انھوں نے نیشنل بک فائونڈیشن کے حوالے سے مستقبل کی منصوبہ بندی پراظہار خیال کیا۔ یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ ادارہ اب مزید ترقی کرے گا کیونکہ ڈاکٹرانعام الحق نے دفتر میں ٹھنڈی مشین کے سائے میں بیٹھ کر افسری دکھانے کی بجائے اپنے مہمانوں کو ساتھ لے جا کر اس خالی زمین کامعائنہ کروایا اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی ۔ اسی ادارے کے سیکریٹری آفتاب سومرو کی ادب شناسی نے بھی بے حدمتاثر کیا ۔نیشنل بک فائونڈیشن کی ایک اوراہم کاوش’’ ماہنامہ کتاب‘‘ ہے، جس کے ذریعے ملک بھر کی ادبی وثقافتی سرگرمیوں کی خبریں اس میںپڑھنے کومل جاتی ہیں ،اسی رسالے میںکتابوں پر جامع تبصرے اورمضامین بھی شامل ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید زمین سے جڑے ہوئے زرخیز ذہن کے آدمی ہیں،امید یہی ہے کہ نیشنل بک فائونڈیشن ہمارے ملک میں شعور اورآگہی کے ایسے پودے لگائے گا،جو مستقبل میں تناوردرخت بن کر سرزمین پاکستان کو علمی ثمر دیں گے۔کتاب،کتب بینی،ادب وثقافت سے از سرنو مراسم قائم کرنے میں ہمیں ایسے ہی دوررس اقدامات اورایماندار اشخاص کی ضرورت ہے

مکمل تحریر >>

کتاب کا عاشق حکمران

مکمل تحریر >>