ریڈیو پاکستان والے چوک میں اسلام آباد پولیس کا ناکہ تھا۔سپاھی نے ہاتھ دیا تو میں نے گاڑی روک لی کہاں
جا رہے ہیں؟ سپاھی نے گویا لٹھ ماری میرا جواب سادہ تھا نیشنل لائبریری ،مگر اگلا سوال پہلے سے کئ
مشکل تھا، کیوں؟ ابھی میں سوچ ھی رھا تھا کہ اس کیوں کا کیا جواب دوں کہ اگلی سیٹ پر بیٹھے نیرے
دوست نے میڈیا کا کارڈ دکھایا تو ہمیں آگے جانے کی اجازت مل گئ۔ہماری منزل قومی سطح کا سب سے بڑ
کتب خانہ تھا۔نیشنل لائبریری کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوۓ تو ہو کا عالم تھا۔ استقبالیہ پر بیٹھے
شخص نے ہمیں سر سے لیکر پاؤں تک یوں دیکھاجیسے ہماری ذہنی حالت پر شک ہو،میں نے ڈرتے ڈرتے مدعا
بیان کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ کتابیں دیکھ سکتے ہیں؟ جواب ملا کل آئیں لائبریری کا وقت ختم ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے
حیرت سے دوست کی طرف دیکھا تو اس نے میڈیا کا حوالہ دیتے ہوۓ اپنے طریقے سے درخواست کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
استقبالیہ پر بیٹھے شخص نے گویا ہماری 7 پشتوں پر احسان کرتے ہوۓ ھمیں اندر جانے کی اجازت مرحمت
فرمائ تو مجھ پر حیرت کے سمندر ٹوٹ پڑے اور میں یورپ کی ترقی کا راز کھوجنے لگا۔
جب یورپاپنے صدیوں پر محیط سیاہ دور سے نشاۃ ثانیہ کا سفر طے کر رہا تھا تو وہاں علم کی عزت اور توقیر شروع
ہو رہی تھی اور ہمارے ہاں علم کی بے توقیری بڑھ رہی تھی انگلستان کی آکسفورڈ یونیورسٹی 1157 اور کیمبرج
یونیورستی 1207ء کو قائم کی جا چکی تھیں اور ان یونیورسٹیوں کی ویل باؤرن کے قریب فرانس ترئج لائبریری
قائم ہوئ 1608ء کو ناروچ سٹی لائبریری قائم ہوئ اس کے بعد چھوٹی بری لائبریریوں کا سلسلہ پورے انگلستان
میں پھیل گیا علم کی قدر اور فروغ کی عمل اعلمی خدمات نے نہ صرف انگلستان بلکہ پوری دنیا کا نقشہ بدل
کے رکھ دیا یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ کتب خانوں کا قیام سولہویں صدی عیسوی سے شروع ہو چکا تھا 159
انگلستان کے عالمی طاقت بننے سے کئ صدیوں پہلے شروع ہو چکا تھا
اٹلی میں پہلی لائبریری میلا ٹیسٹا 1452ء میں قائم ہو چکی تھی جب یورپ کی سفید فام نسل نے ام
کینیڈا،آستریلیا اور نیوزی لینڈ آباد کیۓ تو وہاں بھی فوری طور پر لائبریریوں اور یونیورسٹیوں کا 1 سلسلہ شروع کیا
1636ء میں امریکہ میں میں ہارورڈ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا گیاتو 1779ء میں کینیڈا میں پہلی لائبریری
کیوبک سٹی میں قائم کی گئ جبکہ اسی عرصہ میں بر صغیر میں کوئ بڑی اور قابل ذکر یونیورسٹی یا لائبریری
تعمیر نہیں ہوئ علم و تحقیق سے جیسے ہمارے حکمرانوں کا واسطہ ہی نہ تھا
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔