Pages

ہفتہ، 20 فروری، 2016

چند گراں قدرمفید تفاسیر


چند گرا ں قدر مفید تفاسیر

مقدمہٴ ہذا کے اختتام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ طالبین علم وحق کے واسطے چند معتمد تفاسیر کے نام درج کردیئے جائیں جن کا مطالعہ کافی حد تک دیگر تفاسیر سے مستغنی کردیتاہے ‘ لیکن بہرحال یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ہرتفسیر کی اپنی ایک امتیازی خصوصیت ہوتی ہے جس میں کوئی دوسری تفسیر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی، اور دوسری تفسیر کے اہم گوشوں کا احصاء ایک ہی تفسیر میں ہونا کم ہی پایا گیا ہے ،اس لئے کہ ہلکی بارش کشادہ وادی میں کیونکر نفع مند ہوسکتی ہے اور گڑھے کا پانی لبا لب ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا کیا مقابلہ کرسکتاہے اور پھوار کو گرجتی برستی بارش سے کیا نسبت؟ ہر تفسیر ایسی امتیازی خصوصیات کی حامل ہے جو خصوصیات دیگر کسی تفسیر میں نہیں پائی جاتیں، اسی لئے اگر چہ متأخر عالم‘ متقدم کی تفسیری ابحاث کو ہی کیوں نہ نقل کرے‘ بلکہ ایک ہی کتاب کی تلخیص واختصار کرے، تب بھی اصل کتاب کی طرف مراجعت کے سوا چارہ کار نہ ہوگا، اس بات کی گواہی کے لئے ہمارے پاس قطعی تجربہ کافی ہے ،جب کہ ذوق سلیم بھی یہی کہتا ہے اور اس پر دلیل وبرہان بھی واضح ہے ،ہاں! سوائے چند کتابوں کے کہ ان میں فاضل مؤلفین نے وہ کمالات دکھلائے کہ اختصار وبسط اور اجمال وتفصیل میں چنداں فرق نظر نہیں آتا۔ ان تفاسیر میں تفاصیل وابحاث کا اختلاف کیسے نہ ہوگا؟ جبکہ اختلاف ِ آراء کا پایا جانا اور طبائع ومزاج کا آپس میں تباین وتناقض روزِ روشن سے زیادہ واضح ہے اور ہر شخص کی ضرورت دوسرے شخص سے مختلف ہوا کرتی ہے ، اسی طرح آراء ومزاج میں کلی طور پر اتفاق کم ہی ہوا کرتا ہے، کتنی چیزیں ہیں کوئی ان کا محتاج ہوتا ہے اور دوسرے اس سے مستغنی،بہت سے کلمات والفاظ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ایک مصنف ذکر کرتا ہے ،دوسرا ان کو لائق التفات ہی نہیں جانتا ،اس لئے جو شخص قرآنی علوم کی طرف اعتناء ورغبت رکھتا ہو اوراس میں بصیرت کاملہ اور حذاقت ومہارت کا خواہاں ہو اس کو ضروری ہے کہ جو تفسیر میسر ہو اس کا مطالعہ کرے ،اس لئے کہ بہرحال تفسیر کا موضوع تو عمدہ ترین موضوع ہے ،خاص طور پر وہ فوائد جو اسلاف محققین اور راسخ علمائے متقدمین نے تحریر فرمائے ہیں ،گوکہ وہ ایک سورت یا دو سوررتوں ہی کے متعلق ہوں‘ بلکہ ایک یا دو آیت ہی کے متعلق کیوں نہ ہوں اور اس کے لیے ان کی تفاسیر کے علاوہ دیگر علوم وفنون میں ان کی تحریر کردہ تصنیفات کا تتبع وتفحص کرے اور ان کو گم شدہ قابل قدر قیمتی شئ کے مانند ہرجگہ تلاش کرے ،اس لئے کہ قرآن کریم کی کتنی ہی مشکل مباحث ایسی ہوتی ہیں جنہیں ایک محقق ،کتب تفسیر کے علاوہ دیگر کتب میں ان کا حل پالیتا ہے اور جس جگہ امید بھی نہ ہو، وہاں ان مشکلات کو سمجھ لیتا ہے اوراس طرح کہ بکھرے ہوئے لعل وجواہر محققین اسلاف کی کئی کتب میں پائے جاتے ہیں ،جن میں درج ذیل نام سرفہرست ہیں:
۱- امام حجة الاسلام غزالی، متوفی ۵۰۵ ھ۔ ۲- حافظ ابن قیم، متوفی ۷۵۱ھ حافظ موصوف اس موضوع کے متعلق شہسوار ہیں، شاید ہی ان کی کوئی کتاب کسی آیت کی تفسیر سے خالی ہو۔ ۳- حافظ ابن تیمیہ الحرانی ،متوفی ۷۲۷ھ یہ حافظ ابن قیم کے استاذ اوربحر العلوم ہیں۔ ۴- شیخ ابو القاسم سید شریف مرتضی صاحب کتاب ”الامالی“ متوفی ۴۳۶ھ۔ ۵- محقق ومدقق وزیر یمانی  صاحب کتاب ”ایثار الحق علی الحلق“ ”العواصم والقواصم“ ”الروض الباسم“ موصوف ابن حجر عسقلانی کے معاصر ہیں۔ ۶- شیخ بہاء الدین سبکی ابن تقی الدین، موصوف ابن تیمیہ کے معاصر بزرگ ہیں، ان کی کتاب ”عروس الافراح“ مختلف آیات کی تفسیری مباحث کے متعلق ہے۔ ۷- امیر یحییٰ بن حمزہ یمنی نے ”الطراز“ میں کئی فوائد تحریر فرمائے ہیں اور یہ نویں صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں ،ان کے علاوہ دیگر کئی اکابرین امت وعلمائے ملت جن کے گرد امت کی چکی گھومتی ہے (گویا وہ اس کے قطب اور پاٹ ہیں) انہوں نے تفسیری فوائد بکھرے انداز میں اپنی کئی کتب میں تحریر فرمائے ہیں۔ کچھ عرصہ سے میں سوچ رہا تھا کہ اگر خدائے پاک کی توفیق شامل حال ہوئی تو یہ بکھرے موتی مذکورہ اکابرین علماء کی کتب سے جمع کرکے ان کو ایک لڑی میں پرو دوں، اس کا اظہار میں نے اس لئے کردیا، تاکہ توفیق والے اس اہم خدمت کے متعلق غور وفکر فرماویں‘ واللہ الموفق۔ چونکہ یہ موہوم زندگی بہت محدود ہے اور خواہشات لمبی ہیں‘ ہمتیں سست اور عزائم بوجھل ہیں ،خیالات وافکار کو خواہشات نے مختلف وادیوں میں بہادیا ہے اور کوششیں خاک ہورہی ہیں ،میں چاہتاہوں کہ عزیز طلباء کو ان مطبوعہ تفاسیر میں سے جو اہل علم حضرات کے ہاں مشہور اور رائج ہیں ،چند کے متعلق آگاہ کروں ،جو چاہے انہی پر قناعت کرے تو اس کو کافی ہوجائیں گی اور صرف انہی نہروں ا وردریاؤں سے پی لے تو سیراب ہوجائے گا اور ان شاء اللہ ان تفاسیر سے خوب سیراب ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اس کو دیگر تفاسیر سے مستغنی کردیں گی، اور یہ تفاسیر میرے نزدیک چار ہیں:
۱- تفسیر ابن کثیر:
یہ تفسیر حافظ عماد الدین ابن کثیر شافعی دمشقی متوفی ۷۷۴ھ جو علامہ ابن تیمیہ کے اجل تلامذہ میں سے ہیں کی تحریر کردہ تفسیر ہے ،یہ ”تفسیر ابن جریر“ سے مستفاد اورگویا اس کا مصفی ایڈیشن ہے، محدثین کی تفاسیر میں روایت ودرایت کے اعتبار سے کوئی اس تفسیر کے مقابل نہیں ، ہمارے حضرت شیخ امام العصر مولانا انور شاہ کشمیرینے فرمایا: اگرکوئی کتاب کسی دوسری کتاب سے مستغنی کرنے والی ہے تو وہ تفسیر ابن کثیر ہے جو تفسیر ابن جریر سے مستغنی کرنے والی ہے۔
۲- مفاتیح الغیب:
جو ”التفسیرالکبیر“ کے نام سے معروف ہے، یہ امام محقق فخر الدین ابن خطیب الرازی شافعی متوفی ۶۰۶ھ کی تفسیر ہے، ہمارے شیخ  فرماتے تھے کہ: میں نے مشکلات ِ قرآن میں سے کوئی مشکل ایسی نہ پائی مگر اس کا حل امام موصوف نے اس تفسیر میں فرمادیا ہے، اور یوں بھی کہا کرتے تھے کہ: امام موصوف حل مشکلات کے دریا میں غوطہ زنی کرتے ہیں اگرچہ بعض مشکلات کا وہ قابل اطمینان اور موجب قناعت حل پیش کرنے میں ظفریاب نہیں بھی ہوتے ہیں ،اوراسی طرح شیخ یوں بھی کہا کرتے تھے کہ: جو اس تفسیر کے متعلق کہا گیا ہے کہ ”فیہ کل شئ الا التفسیر“ جیساکہ صاحب ”الاتقان“ امام سیوطی نے نقل فرمایا ہے یہ اس تفسیر کی جلالت قدر اور علو منزلت کو گھٹانے کے واسطے ہے، شاید یہ قول اس شخص کا ہو جس کو لطائف ومعارف قرآنی سے دلچسپی نہیں اور صرف من گھڑت اقوال کی بہتات کردینا اس پر غالب ہے۔
۳- روح المعانی:
یہ تفسیر تیرھویں صدی ہجری کی عظیم القدر شخصیت مفتیٴ بغداداور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم سید محمود آلوسی حنفی کی تحریر کردہ ہے ،اس کی گرانمایہ خصوصیات اور بلند پایہ محاسن دلوں کواپنی جانب کھینچتے ہیں۔ میرے نزدیک موادکی کثرت‘ واضح تعبیرات اورتحریر کی عمدگی میں مذکورہ تفسیر علامہ ابن حجر کی ”فتح الباری“ کے مانند ہے، لیکن چونکہ فتح الباری کلامِ مخلوق کی تشریح وتفصیل ہے، اس لئے اس نے صحیح بخاری کی شرح کی گراں ذمہ داری سے امت مرحومہ کو آزاد کردیا اورگویا صحیح بخاری کا حق ادا کردیا، جب کہ خدائے کریم کامبارک کلام اس بات سے بہت بالاوبرتر ہے کہ کوئی بشر اس کے حق کو کامل طور پر ادا کرسکے، اگرچہ اپنی ممکنہ ہمت وعنایت کلام اللہ کی شرح وتفسیر میں گذاردے۔
۴- ارشاد العقل السلیم الی مزایا القرآن الکریم:
یہ حضرت شیخ ابو السعودحنفی‘ مفتیٴ سلطنت عثمانیہ‘ خطیب المفسرین‘ قاضی القضاة علامہ محمد بن محمد العمادی متوفی ۹۵۱ھ کی بلندپایہ تفسیر ہے جو نظم قرآنی کے اغراض ومقاصد کو بہترین پیرائے اور عجیب طرز تصویر سے نہایت خوش اسلوبی سے آشکارا کرتی ہے نیز امام زمخشری کی ”الکشاف“ کی بہت سی خصوصیات سے مستغنی کرنے والی ہے۔ یہ چار کتب تفسیرہوئیں، جن میں دو شافعی المسلک علماء کی ،جب کہ دو حنفی علماء کی تحریر کردہ ہیں اور جس مفسر کو فرصت نہ ہو امید ہے کہ وہ ان چاروں تفاسیر سے استفادہ کرنے کے بعد دیگر سے مستغنی ہوجائے گا ۔ جو شخص جدید علوم وفنون کے متعلق معلومات کا شائق ہو اور قدرت کے تخلیقی کارناموں‘ تکوینی غرائبات اور کائنات کے پھیلے نظام کی باریکیوں کو جاننے کا خواہشمند ہو ،وہ ان مذکورہ تفاسیر کے ساتھ علامہ جوہری طنطاوی کی ”جواہر القرآن الکریم“ کو بھی زیر مطالعہ رکھے‘ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ نقد حدیث کے متعلق ان کی رائے پر اعتماد مناسب نہیں ہے ،اس لئے کہ و ہ محض اپنی رائے پر اعتماد رکھتے ہوئے شرائط نقد کو ملحوظ رکھے بغیر تنقید کرتے ہیں، یہ بات ہم نے اپنے شیخ حضرت شاہ انور شاہ کشمیری سے سنی ہے۔ اور جو عصری اسلوب کے مطابق قرآنی اغراض ومقاصد کی راہنمائی کا خواہاں ہو ،وہ علامہ سید رشید رضا کی تفسیر ”المنار“ کو بھی مذکورہ تفاسیر میں ضم کرلے ،مگر یہاں یہ بھی مدنظر رہے کہ ان کے تمام مزعومات وآراء پر اعتماد مناسب نہیں ہے اور بیشک یہ تفسیر بھی چند مقامات پر جہاں مؤلف مذکور کے شیخ یا خود ان کے قلم نے مسلک حق کے متعلق بے اعتدالیاں برتی ہیں، ان پر تنبیہات ذکر کی جاویں ۔ خلاصہٴ بحث یہ ہے کہ ان دونوں تفاسیر ”الجواہر“ اور ”المنار“ کے قابل اعتراض مقامات کے علاوہ یہ دونوں تفاسیر اپنے فوائد کے بارے میں نفع سے خالی نہیں اور ان سے استفادہ کرنے والے کو اس وقت صاحب حماسہ ابو تمام کا یہ شعر پیش رکھنا بہت مفید ہوگا۔
ولایغرنک صفوانت شاربہ فربما کان بالتکدیر ممتزجاً
ترجمہ :۔”تمہیں صاف پانی کا پینا دھوکہ میں غافل نہ کردے بسااوقات یہ صاف پانی بھی گدلے پانی سے مخلوط ہوتا ہے۔“ اسی طرح یہ شعر بھی لائق اعتناء ہے:
قدرلرجلک قبل الخطو موضعہا فمن علا زلقاً عن غرہ زلجا
ترجمہ :۔”اپنے پیر پڑنے کی جگہ کو قدم رکھنے سے قبل خوب اچھی طرح جانچ لو اس لئے کہ جو غفلت میں پھسلن پر پڑگیا تو پھسل جائے گا۔“
جو مفسر ان مذکورہ تفاسیر سے بھی مختصر تفسیرچاہتا ہو تو وہ شیخ محقق نیسابوری کی ”غرائب الفرقان“ اور تفسیر ابو السعود (جس کا گذشتہ سطور میں ذکر ہوا )کودیکھے ،اول الذکر تفسیرکبیر امام رازی (جس کا ذکر کیا جاچکا ہے)کا بہترین خلاصہ ہے اور چند مزید فوائد کا اس میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ عدیم الفرصت شخص کے لیے قرآنی مفاہیم کو سمجھنے میں یہ دونوں تفاسیر کافی ہوجائیں گی یا پھر تفسیر ابن کثیر اور الکشاف دیکھ لے اور جو شخص صرف ایک ہی تفسیر پر قناعت کرنا چاہے تو اگرچہ وہ کچھ شمار میں بھی نہ آوے گی اور گویا بہتی ہوئی نہر میں سے نہایت قلیل پانی ہے تو اگر وہ مبسوط تفسیر چاہتا ہے تو ”روح المعانی“ کا مطالعہ کرے ،کیونکہ علامہ آلوسی روایات کا خلاصہ ونچوڑ بیان کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ بلاغت ودرایت کے متعلق بھی ابحاث ذکر فرماتے ہیں اور اگر وہ اس ایک تفسیر سے بھی مختصرچاہتا ہے تو وہ شیخ عارف عبد الرحمن ثعلبی جزائر کی ”الجواہر الحسان“ کا مطالعہ کرے ،یہ تفسیر مختصر بھی ہے اور انتہائی نفع مند بھی، اور اس میں علامہ  نے نہایت خوش اسلوبی سے ابن عطیہ کی تفسیر کی تلخیص فرمائی ہے اور مختلف علوم سے متعلق تقریباً سو سے زائد کتابوں سے حاصل فوائد کا اضافہ کیا ہے۔ یہ کل آٹھ تفاسیر ہوئیں، جو چاہے اس سے زائد کابھی مطالعہ کرلے، اس لئے کہ یہ موضوع تو پورا ہی خیر سے بھر پور ہے اور جس کسی کو ہندی اردو زبان میں نظم قرآنی کی سمجھ حاصل کرنی ہو اور اردو بھی دلنشین اسلوب اور فصیح ترین تعبیرات سے مزین ہوتو وہ ہمارے حضرت شیخ المشائخ مولانا محمود حسن دیوبندی متوفی ۱۳۳۹ھ (جو شیخ الہند کے نام سے مشہور ہیں)کا ترجمہ جس پر ہمارے حضرت شیخ محقق العصر مولانا شبیر احمد عثمانی کے تحریر کردہ تفسیری فوائد ہیں کا مطالعہ کرلے ،اس لئے کہ ان دونوں حضرات نے نظم قرآنی کے مقاصد واغراض کو عجیب پیرائے میں سمجھایا ہے کہ گویا سارے فوائد قیمتی لعل وجواہر اور قابل قدر ورفعت گرانمایہ موتی ہیں، اور کبھی کبھار ان ضخیم جلدوں اور اس بھرپور تفسیری موادسے بھی وہ مشکل گرہیں نہیں کھلتیں، جس کو آپ ان فوائد کی مختصر عبارات اور لطیف اشارائے میں واضح پائیں گے۔ اللہ کریم ان حضرات کو ان کی محنتوں کا صلہ عطا فرمائے،آمین۔ ان تفسیری فوائد سے فضلائے زمانہ تک مستغنی نہیں، چہ جائیکہ طلباء کرام اپنی طالب علمی کے دور میں اس سے روگردانی کریں، عربی تفاسیر میں سے بھی کوئی تفسیر ان فوائد کے قائم مقام یا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی ،میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ: بقیہ تفاسیر سے یہ تفسیری فوائد مستغنی کرتے ہیں ،بلکہ کہنے کا مقصدیہ ہے کہ جس طرح دیگر تفاسیر سے یہ فوائد مستغنی نہیں کرسکتے، اسی طرح دیگر تفاسیر بھی ان سے مستغنی نہیں کرسکتی۔
اشاعت ۲۰۰۸ ماہنامہ بینات , صفر۱۴۲۹ہ فروری۲۰۰۸ء, جلد 71, شمارہ 2

    

مکمل تحریر >>

منگل، 16 فروری، 2016

معاشرے میں ذوق مطالعہ کیسے پیدا ہو؟


کتاب سے دوری ھمارے ملک کے بڑے مسائل میں سے اک مسئلہ ھے
ملک میں کتب بینی کو کیسے فروغ دیا جائے؟
میری فرینڈ لسٹ میں شامل تمام احباب سے التماس ھے کہ وہ اپنی رائے دیں جزاک اللہ خیرا
Comments
Rehan Bashir
اچھی کتابیں تحفه کر کر کے...
محمد عطاءالرحمن
میں دوست احباب کی شادی پر انکو کتاب ھی گفٹ کرتا ھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنی شادی پر بیوی کو بھی کتب ھی گفٹ کی تھی(اک تیر سے دو شکار ایسے کہ وہ کتب خود بھی پڑھنے کو میسر ھے smile emoticon
تنویر اختر Masjid ki satah per chhoti chotti Laibrerian banai jaen jis me Deni kutb rakhi jain...............yeh sirf ek choty se Rack aur chand kutub se shuro ki ja skti henSee translation
Aziz Bin Aziz
نمل بهائی کی رائے سے اتفاق هے، عمدہ تجویز هے،
Ubaid Ur Rahman
صرف کتاب گفٹ کردینے سے کام نھی چلے گا... اگر مطالعے کا شوق نھی ھوگا تو وہ شکریے کیساتھ کتاب کو سائیڈ پر رکھ دے گا ...
مطالعے کا شوق بچپن سے ڈالنا چاہئے اور اس میں سب سے اھم ذمّہ داری والدین اور اساتذہ کی ھےوالدین یہ کریں کہ بچوں کو انکی عمر کے لحاظ سے کتابیں لا کردیں اور ان سے یہ فرمائش بھی کریں کہ بچے ان کو کچھ پڑھ کر سنائیں
اور سکول / مدرسہ والوں کو بھی چاھئے کہ لائبریری کا استعمال صرف شوبازی کیلئے نہ کریں بلکہ ھر کلاس کی ٹائمنگ بنائیں کہ بچے اس وقت میں خارجی کتب کا مطالعہ کریں... بچوں کو جب ایک بار کتاب سے انسیت ھو گئی تو پھر آپ کو کھنے کی ضرورت نہ ھوگی
اور ھاں ائمّہ کرام بھی اس میں بھت کردار ادا کرسکتے ھیں ... وہ مسجد میں لائبریری بنائیں (اکثر ائمہ کرام کے پاس ذاتی طور پر بھی کافی کتابیں ھوتی ھیں لیکن وہ ان کے ھجرے میں ھی رھتی ھیں)
اور کتاب کا تھوڑا بھت رینٹ بھی رکھیں.. چاھے ایک روپیہ ھی کیوں نہ ھو... اور اس کرایہ سے مزید کتابیں لیں...
Ubaid Ur Rahman
ھمارے ایک دوست امامت کرواتے ھیں انھوں نے دس بارہ سال پہلے ایسے ھی کام شروع کیا تھا مسجد میں لائبریری بنانے کا اور اب ان کے پاس 5000 کتابیں ھیں اس کے علاوہ پورے ملک سے ھر ماہ 30 کے قریب رسالے بھی آتے ھیں مسجد میں, جو لوگ بھت شوق سے پڑھتے ھیں...
عاطف الهاشمى
مسجد کے ساتھ لائبریری والی تجویز بہت عمدہ ھے،لیکن صرف لائبریری بنا دینے سے کام نہیں چلے گا، امام صاحب کو شروع میں مطالعہ کا ماحول بنانے لے لیے کافی محنت کرنی پڑے گیِ
دوسری چیز جو کتاب دوستی میں معاون بن سکتی ھے وہ اچھے ناول پڑھنے کی ترغیب ھے، مشاھدہ ھے کہ جب کتاب بیزار شخص بھی ایک دفعہ ناول شروع کر دیتا ھے تو اس کے لیے کتاب چھوڑنا مشکل ھو جاتا ھے،بعد میں یہی "ناول بینی" اسے کتب بینی کی طرف لے جاتی ھے،ھمارے بزرگوں نے بھی عشق مجازی کو عشق حقٰیقی کی سیڑھی قرار دیا ھے smile emoticon
Adnan Alam
اسلام و علیکم اسکی بڑی وجہ موبائل فون اور کیبل ہے ۔۔۔۔ یہاں موبائل کی تو تشہیر تو ٹی وی اور اخبار میں ہوتی ہے مگر کتابوں کی نہیں ۔۔۔یہ دور وہ ہے جو زیادہ دکھے گا وہی بکے گا۔۔۔۔ہم ٹی وی پر موبائل کے فیچر قیمت کو دکھاتے ہیں مگر کتاب کے فیچر اور قیمت نہیں بتاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اسکول ، کالج اور یونیورسٹی میں امتحانات میں کتابوں پر اسائمنٹ کو لازمی قرار دیا جائے تو کچھ فرق آسکتا ہے
Syed Mohammad Sami
تحفے کی بات انتہائی معقول ہے ! ہمیں اپنے بچوں بچیوں کسی اور چیز کے بجاۓ کوئی خوبصورت کتاب تحفتا دینا چاہے اور اپنے دوست احباب کو بھی اسکی تلقین کرنا چاہیے
محمد عطاءالرحمن
لیکن تحفہ دینے کے بعد بھی یہ مسئلہ بد دستور باقی رھے گا کہ انکو وہ کتاب پڑھنی کی ترغیب کیسے دی جائے؟ Syed Mohammad Sami
Bashar Alawi
........٢)مختلف اصحاب علم کے مطالعه کی افادیت پر مبنی لیکچرز کا اهتمام کیا جاۓ١)طلبه کو استاد هی سارا سبق نه پڑھایا کرے مناسب کتب کا انتخاب کر که طلبه کو مطالعه کا مکلف بنا دے. اگلے روز حاصل مطالعه پیش کرواۓ یوں تعلیمی اداروں میں ایک روایت کتب بینی کی چل سکتی هے
Tafseer Khan
کمپئین چلایا جائے
ہر مکتبہ فکر کو مدعو کیا جائے .
تحائف میں استعمال کیا جائے ...See more
Syed Mohammad Sami
تحفہ بڑی عزیز ہوتی ھے بار بار دیکھنے ،پڑھنے ، الٹنے پلٹے ، اٹھانے رکھنے لوگوں کو دکھانے کا من کرتا ھے آپ کسی کو دیکر تو دیکھو tongue emoticon
محمد عطاءالرحمن
استاد محترم آپکی یہ تجویز آزمودہ ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز لگے ھاتھوں اچھے ناولز بھی بتا دیں چند ایک محترم عاطف الھاشمی
Junaid Iqbal
کتابون سے دوری کی ایک بڑی وجہ ھماری قوم خصوصا نوجوانوں میں سہل پسندی اور تفریحی رجحانات بہت بڑھ گئے ھیں...لوگ کم دل چسپ اور خشک موضوعات سے گھبراتے ھیں...
اس کے بر عکس پکنک پارٹی...ہلہ گلہ...میڈیا..نیٹ پر وقت گازرنے کو زیادہ فوقیت دیتے ھیں..
اس لیے کتب ...See more
محمد نعمان بخاری
جس نے جو کتب پڑھی ہیں انکا اگر اجمالی تعارف بیان کر دیں تو ایک اچھا رحجان بن سکتا ہے اس مسئلہ کے حل کی طرف۔۔ نیز ظفر جی کے کمنٹ سے اتفاق ہے
آخری درویش
بچوں کے رسائل تحفہ کے طور پر دیے جائے... وہ کیسے مزاج کا بندہ کیوں نہ ھو... وہ ضرور پڑھے گا... اور اگلی دفعہ وہ خود خریدے گا... پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ کتب کی طرف بھی توجہ دے گا...
Danish Saleem
بہت اچھی سوچ ہے..
دیکھیں آج کل ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے..
ٹیکنالوجی نے جہاں اور چیزوں میں سہولت دی ہے وہیں کتاب پڑھنا بھی سہل کردیا ہے..آپ اپنے کمپیوٹر میں بڑی بڑی کتابیں پڑھ سکتے ہیں جنکا خریدنا کبھی کبھی انسان کے بس میں نہیں ہوتا.....See more
Aminullah Amin
پاکستان میں موجود لائبریریوں کا تعارف اور ان تک رسائی کے طریقے کی تشہیر -----نئی کتب کا تعارف ، پرانی پر تبصرہ
محمد محسن
کتاب سے دوری نے ہمیں ذہنی سکون اور دلی اطمینان سے محروم کر دیا ہے اور جوں جوں یہ فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں اس بے سکونی و بے اطمینانی میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے۔ نئی نسل میں کتاب سے مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً کتاب میلوں کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔
Zohaib Zaibi
بدقسمتی سے ہماری قوم اس وقت ادبی و تحقیقی ذوق سے کوسوں دور اور کتب دشمنی کی انتہاؤں پر ہے ۔۔۔ اب پبلشرز، کوئی تحقیقی و دقیق مواد چھاپنے سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ لوگ وہ پڑھیں گے نہیں۔ یقیناً یہ خرابی برس دو برس میں رونما نہیں ہوئی ۔۔ بلکہ ہم نے ادب دشمن...See more
فضل الرحمن محمود
ڈاکٹر حمید اللہ فرماتے ہیں ، کسی دور میں حجام کی دوکان پر باری کا انتظار کرنے والے لوگوں کی وقت گزاری کے لیے مختلف اخبارات و میگزین رکھے جاتے تھے۔ اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگ مختلف صفحات آپس میں بانٹ لیتے تھے، اور اپنا نمبر آنے تک اخبار کے مطالعہ میں مش...See more
Burhanullah Farooqi
هر وه جگه جهاں انتظار کرنا پڑتا یے، وهاں پڑھنے کی کچھ کتابیں رکھ دی جائیں. والدین اور اساتذه بچوں کو روزانه مطالعے کا عادی بنائیں
Tasawwur Sami
سکول ،کالج، مدارس, اکیڈمیاں
غرتعلیم وتعلم سے وابستہ تمام شعبوں اوراداروں کو اس متعلق متفکر کرناچاہیےکیونکہ انسان کا مزاج اور ترجیحات دوران تعلیم ہی طے پاتی ہیں
محمد عطاءالرحمن
جن جن احباب نے اپنا قیمتی وقت نکال کر نہایت مفید تجاویز دی ان سب کا بھت بھت شکریہ جزاکم اللہ خیرا
عاطف الهاشمىRehan Bashir Namal Jand Ahsan Khuddami Hafeez MansoorTasawwur Sami Zafar Gee Burhanullah Farooqi Fazal Rahman Zohaib ZaibiMuhsin Javed Tal...See more
محمد عطاءالرحمن
حکم کی تعمیل قبل از حکم کر دی تھی محترم Hafeez Mansoor
ابوالحسن الطالب
جن لوگوں کو اللہ تعالی نے کتابی ذوق سے نوازا ہے، وہ اپنی عام مجلسوں، عوامی نشستوں اور اسباق ولیکچرز میں مناسبات سے کتابوں کے متعلق معلومات فراہم کریں، کوئی بحث چهڑے یا کسی موضوع پر خواہ عوامی خطاب ہی ہو تو متعلقہ کتب کی نشاندہی کریں، مصنفین کا مقام بتائیں، عوام کو ان کے مناسب کتابیں بتائیں، ذاتی طور پرکتاب کے دیکهنے کی دلچسپی پیدا ہونے میں جن بعض اساتذہ کا کردار رہا ان کی یہ خصوصیات مفید پائیں ہیں، علامہ انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ درس میں پہلی بار کسی کتاب کا ذکر کرتے وقت کتاب ومصنف کاتعارف اور مقام وموضوع متعین کردیتے تهے، مدرسین اس کی عادت بنالیں تو اپنی کتابی معلومات بهی بڑهاسکتے ہیں اور مطالعہ بهی وسیع کرسکتے ہیں.
مکمل تحریر >>