(((( سلسلہ تبصرہ کتب ))))
کتاب : حضرت نظام الدین اولیاء
مؤلف: پروفیسر عبد الرحمن مومن
ناشر: بک ہوم،بک سٹریٹ 46۔مزنگ روڈ (لاہور)
تبصرہ: محمد انس حسان
مؤلف: پروفیسر عبد الرحمن مومن
ناشر: بک ہوم،بک سٹریٹ 46۔مزنگ روڈ (لاہور)
تبصرہ: محمد انس حسان
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ (634ھ۔ 725ھ) کا شمار سلسلہ چشتیہ کے نامور صوفیاء میں ہوتا ہے۔ آپ نے آٹھویں صدی ہجری کے نصف اول میں رشد و ہدایت کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ آپ کی روحانی شخصیت نے ہزاروں نہیں لاکھوں انسانوں کے دلوں پر اپنے اثرات مرتب کئے۔ زیر تبصرہ کتاب میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی تعلیمات و ملفوظات اور سیرت و شخصیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے سیر و سوانح اور ملفوظات پر پہلے سے نصف درجن سے زائد کتب دستیاب ہیں۔ اور بزرگان چشت کے حوالے سے ان کا تذکرہ تصوف کی تقریباً ہرکتاب کا حصہ ہے ان حالات میں مولف کو اس کتاب کو تالیف کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کا جواب دیتے ہوئے مولف رقمطراز ہیں کہ:
’’اس کتاب میں سلطان جی کی تعلیمات و ملفوظات اور آپ کی سیرت و شخصیت کو کتاب و سنت اور آثار صحابہ و تابعین کے آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ آپ کی تعلیمات میں ہمیں اسلامی تصوف اور مشائخ متقدمین کے مشرب کی معتبر ترجمانی ملتی ہے۔‘‘ (ص: 7)
مولف کا کہنا ہے کہ:
’’اس کتاب کی تیاری میں مستند اور قدیم مآخذ کے علاوہ بعض قلمی مخطوطات اور نادر کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ جو پہلی بار منصہ شہود پر آئی ہیں ۔ جن مخطوطات سے استفادہ کیا گیا ہے ان میں سیر الاولیاء (ایشیا ٹک سوسائٹی کلکتہ)، نفائس ا لا نفاس ( کتب خانہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو) اور مراۃ الاسرار (قلمی نسخہ مملوکہ مسلم احمد نظامی، دہلی) شامل ہیں‘‘۔ (ص: 7)
مولف کی یہ عبارت ان کے پیش لفظ میں مرقوم ہے اور یہ پیش لفظ 9 جون 1996ء کا لکھا ہوا ہے۔ اگر اس پر نظر ثانی کی گئی ہوتی یا ناشرین نے اس حوالہ سے تحقیق کی زحمت گوارا کی ہوتی تو یہ بات ہرگز نہ لکھی جاتی کیونکہ مذکورہ کتب نہ صرف یہ کہ مطبوعہ ہیں بلکہ ان کے تراجم بھی موجود ہیں۔ چنانچہ’’ سیر الاولیاء‘‘ کا ترجمہ مولانا اعجاز الحق قدوسی نے 1980ء میں کیا تھا،’’ نفائس ا لا نفاس‘‘ کا ترجمہ مسلم احمد نظامی نے کیا ہے جبکہ’’ مراۃ الاسرار‘‘کا بھی ترجمہ ہو چکا ہے اور عام دستیاب ہے۔تاہم مزید تحقیق کے لئے ہندوستان میں مولانا آزاد لائبریری اور پاکستان میں جامعہ پنجاب کی لائبریری دیکھی جا سکتی تھی،جن میں مذکور ہ کتب کے مختلف ایڈیشنزموجود ہیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ یہ کتب پہلی بار منصہ شہود پر آئی ہیں درست نہیں۔ البتہ مخطوطات کی ندرت سے انکار نہیں لیکن اگر مولف کو فارسی مخطوطات مل ہی گئے تھے تو انہیں ان کتب کے اصل حوالے بھی دینے چاہیے تھے اس کے بر عکس انہوں نے صرف اردو تراجم ہی سے استفادہ کیا ہے ۔
کتاب کا پہلا ایڈیشن 1996ء میں شائع ہوا تھا،مناسب ہوتا اگر ناشرین اب تک کی اشاعتو ں پر دو جملے ہی لکھ دیتے۔
ایک اور بات جو حیرت کا باعث بنی وہ یہ کہ کتاب کے شروع میں کمپوزر کا نام محمد انور لکھا گیا ہے جبکہ مولف نے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ:
’’میں جناب انجم نعیم صاحب کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کی کمپیوٹر کمپوزنگ کی صحت کا خیال رکھا‘‘۔(ص:9)
زیر تبصرہ کتاب کو آٹھ ابواب اور ایک ضمیمہ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جن کی ترتیب کچھ یوں ہے۔
باب 1: ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کا فروغ باب2: خواجہ نظام الدین اولیاء کے ابتدائی ایام
باب 3: سلطان جی مسند ارشاد پر باب 4: تعلیمات
باب 5: ملفوظات باب 6: سلطان جی کی جامعیت
باب 7: ممتاز خلفاء و مریدین باب 8: نظامی تعلیمات کی عصری معنویت
کتاب کے مقدمہ میں تصوف کے آغاز، اصلیت، کتاب و سنت سے مطابقت، عالم اسلام کے اخلاقی و روحانی انحطاط اور شبہات وغیرہ پر بڑی جامع گفتگو کی گئی ہے۔ مولف موصوف نے مقدمہ کے لئے قریبا 25 صفحات تحریر کر ڈالے ہیں۔ مقدمہ کے عنوانات اور جامعیت کا تقاضہ تھا کہ اسے الگ باب بنایا جاتا۔ اگرچہ مقدمہ میں مولف نے حوالہ جات کا بہت اہتمام کیا ہے لیکن بہت سی آیات اور حوالے ایسے ہیں جن کو دانستہً چھوڑ دیا گیا ہے یا پھر ان کا ذکر مناسب نہیں سمجھا گیا۔ مآخذ کے لئے بھی عموماً ثانوی مآخذ اختیار کئے گئے ہیں اور اصل کتاب سے رجوع کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی گئی ۔کتاب میں آنے والی جملہ احادیث کے حوالہ کے لئے محض کتاب کا نام دینے پر اکتفاء کیا گیا ہے ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولف نے ان حوالوں کے لئے ثانوی ماخذ پر اعتبار کیا ہے۔ مقدمہ کے 57 حوالہ جات پر عمومی نظر ڈال کر محسوس ہوتا ہے کہ مولف کے پیش نظر محض پانچ یا چھ کتب رہی ہیں۔ حالانکہ موضوع کے تنوع کا تقاضہ تھا کہ مختلف کتب کے حوالہ جات سے اسے مرصع کیا جاتا۔
’’اس کتاب میں سلطان جی کی تعلیمات و ملفوظات اور آپ کی سیرت و شخصیت کو کتاب و سنت اور آثار صحابہ و تابعین کے آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ آپ کی تعلیمات میں ہمیں اسلامی تصوف اور مشائخ متقدمین کے مشرب کی معتبر ترجمانی ملتی ہے۔‘‘ (ص: 7)
مولف کا کہنا ہے کہ:
’’اس کتاب کی تیاری میں مستند اور قدیم مآخذ کے علاوہ بعض قلمی مخطوطات اور نادر کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ جو پہلی بار منصہ شہود پر آئی ہیں ۔ جن مخطوطات سے استفادہ کیا گیا ہے ان میں سیر الاولیاء (ایشیا ٹک سوسائٹی کلکتہ)، نفائس ا لا نفاس ( کتب خانہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو) اور مراۃ الاسرار (قلمی نسخہ مملوکہ مسلم احمد نظامی، دہلی) شامل ہیں‘‘۔ (ص: 7)
مولف کی یہ عبارت ان کے پیش لفظ میں مرقوم ہے اور یہ پیش لفظ 9 جون 1996ء کا لکھا ہوا ہے۔ اگر اس پر نظر ثانی کی گئی ہوتی یا ناشرین نے اس حوالہ سے تحقیق کی زحمت گوارا کی ہوتی تو یہ بات ہرگز نہ لکھی جاتی کیونکہ مذکورہ کتب نہ صرف یہ کہ مطبوعہ ہیں بلکہ ان کے تراجم بھی موجود ہیں۔ چنانچہ’’ سیر الاولیاء‘‘ کا ترجمہ مولانا اعجاز الحق قدوسی نے 1980ء میں کیا تھا،’’ نفائس ا لا نفاس‘‘ کا ترجمہ مسلم احمد نظامی نے کیا ہے جبکہ’’ مراۃ الاسرار‘‘کا بھی ترجمہ ہو چکا ہے اور عام دستیاب ہے۔تاہم مزید تحقیق کے لئے ہندوستان میں مولانا آزاد لائبریری اور پاکستان میں جامعہ پنجاب کی لائبریری دیکھی جا سکتی تھی،جن میں مذکور ہ کتب کے مختلف ایڈیشنزموجود ہیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ یہ کتب پہلی بار منصہ شہود پر آئی ہیں درست نہیں۔ البتہ مخطوطات کی ندرت سے انکار نہیں لیکن اگر مولف کو فارسی مخطوطات مل ہی گئے تھے تو انہیں ان کتب کے اصل حوالے بھی دینے چاہیے تھے اس کے بر عکس انہوں نے صرف اردو تراجم ہی سے استفادہ کیا ہے ۔
کتاب کا پہلا ایڈیشن 1996ء میں شائع ہوا تھا،مناسب ہوتا اگر ناشرین اب تک کی اشاعتو ں پر دو جملے ہی لکھ دیتے۔
ایک اور بات جو حیرت کا باعث بنی وہ یہ کہ کتاب کے شروع میں کمپوزر کا نام محمد انور لکھا گیا ہے جبکہ مولف نے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ:
’’میں جناب انجم نعیم صاحب کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کی کمپیوٹر کمپوزنگ کی صحت کا خیال رکھا‘‘۔(ص:9)
زیر تبصرہ کتاب کو آٹھ ابواب اور ایک ضمیمہ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ جن کی ترتیب کچھ یوں ہے۔
باب 1: ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کا فروغ باب2: خواجہ نظام الدین اولیاء کے ابتدائی ایام
باب 3: سلطان جی مسند ارشاد پر باب 4: تعلیمات
باب 5: ملفوظات باب 6: سلطان جی کی جامعیت
باب 7: ممتاز خلفاء و مریدین باب 8: نظامی تعلیمات کی عصری معنویت
کتاب کے مقدمہ میں تصوف کے آغاز، اصلیت، کتاب و سنت سے مطابقت، عالم اسلام کے اخلاقی و روحانی انحطاط اور شبہات وغیرہ پر بڑی جامع گفتگو کی گئی ہے۔ مولف موصوف نے مقدمہ کے لئے قریبا 25 صفحات تحریر کر ڈالے ہیں۔ مقدمہ کے عنوانات اور جامعیت کا تقاضہ تھا کہ اسے الگ باب بنایا جاتا۔ اگرچہ مقدمہ میں مولف نے حوالہ جات کا بہت اہتمام کیا ہے لیکن بہت سی آیات اور حوالے ایسے ہیں جن کو دانستہً چھوڑ دیا گیا ہے یا پھر ان کا ذکر مناسب نہیں سمجھا گیا۔ مآخذ کے لئے بھی عموماً ثانوی مآخذ اختیار کئے گئے ہیں اور اصل کتاب سے رجوع کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی گئی ۔کتاب میں آنے والی جملہ احادیث کے حوالہ کے لئے محض کتاب کا نام دینے پر اکتفاء کیا گیا ہے ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولف نے ان حوالوں کے لئے ثانوی ماخذ پر اعتبار کیا ہے۔ مقدمہ کے 57 حوالہ جات پر عمومی نظر ڈال کر محسوس ہوتا ہے کہ مولف کے پیش نظر محض پانچ یا چھ کتب رہی ہیں۔ حالانکہ موضوع کے تنوع کا تقاضہ تھا کہ مختلف کتب کے حوالہ جات سے اسے مرصع کیا جاتا۔
کتاب کے پہلے باب میں ’’ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ کا فروغ‘‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مولف کے مطابق پاک و ہند کے پہلے صوفی جن کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے ان کا نام حاجی ترابی ہے جو 171ھ میں سندھ تشریف لائے۔ (ص 26) اپنے اس دعوی کی دلیل انہوں نے اعجاز الحق قدوسی کی کتاب تذکرہ صوفیائے سندھ سے دی ہے۔ لیکن کیا کہئے کہ اعجاز الحق قدوسی نے اپنے دعویٰ کی دلیل میں کوئی حوالہ درج نہیں کیا اور خود ان کی کتاب تصوف کی امہات کتب میں شمار نہیں ہوتی کہ اس پر اعتبار کیا جا سکے۔ اگرچہ محققین اس بات پر تو متفق ہیں کہ برصغیر میں تصوف دوسری صدی ہجری میں پہنچا تاہم نام کی تخصیص کے حوالہ سے یہ موضوع ابھی تحقیق طلب ہے اور اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ایک جگہ شیخ نجم الدین کبریٰ کے حوالہ سے ان کی سن وفات کے ذیل میں لکھا گیا ہے (متوفی 168ھ) (ص 28) نامعلوم مولف کی اس تحقیق کا ماخذ کیا ہے؟ نیز اس حصہ میں سلطان شمس الدین التمش کو ہر جگہ التتمش لکھا گیا ہے اور یہ غلطی اتنے تواتر سے دہرائی گئی ہے کہ اس پر حدیث متواتر کا گمان گزرتا ہے۔ مولف صوفیائے چشتیہ کے ذوق سماع کا ذکر تو کرتے ہیں مگر اس کو چند شرائط پر مقید فرماتے ہیں۔ اگر وہ اتنی تفصیلی گفتگو میں سے محض چند سطریں ان شرائط کے لئے وقف کر دیتے تو بہت بہتر تھا۔ مولف نے اس باب میں صوفیائے چشت کے چند مشہور صوفیاء کے تذکرہ پر اکتفاء کیا ہے۔ میراذاتی خیال یہ ہے کہ اگر وہ ان صوفیاء کا اجمالی تعارف کروا دیتے اوران کے ملفوظات کو موضوع بحث بنانے کی بجائے سلسلہ چشتیہ کی تاریخ کا اجمالی تعارف کروا دیتے تو بہت مفید ہوتا۔
ایک جگہ شیخ نجم الدین کبریٰ کے حوالہ سے ان کی سن وفات کے ذیل میں لکھا گیا ہے (متوفی 168ھ) (ص 28) نامعلوم مولف کی اس تحقیق کا ماخذ کیا ہے؟ نیز اس حصہ میں سلطان شمس الدین التمش کو ہر جگہ التتمش لکھا گیا ہے اور یہ غلطی اتنے تواتر سے دہرائی گئی ہے کہ اس پر حدیث متواتر کا گمان گزرتا ہے۔ مولف صوفیائے چشتیہ کے ذوق سماع کا ذکر تو کرتے ہیں مگر اس کو چند شرائط پر مقید فرماتے ہیں۔ اگر وہ اتنی تفصیلی گفتگو میں سے محض چند سطریں ان شرائط کے لئے وقف کر دیتے تو بہت بہتر تھا۔ مولف نے اس باب میں صوفیائے چشت کے چند مشہور صوفیاء کے تذکرہ پر اکتفاء کیا ہے۔ میراذاتی خیال یہ ہے کہ اگر وہ ان صوفیاء کا اجمالی تعارف کروا دیتے اوران کے ملفوظات کو موضوع بحث بنانے کی بجائے سلسلہ چشتیہ کی تاریخ کا اجمالی تعارف کروا دیتے تو بہت مفید ہوتا۔
کتاب کے دوسرے باب کا عنوان ’’خواجہ نظام الدین اولیاء کے ابتدائی ایام‘‘ہے۔ اس باب میں مولف نے ابتدائی 6 صفحات یونہی صرف کر ڈالے ہیں جن کا اس باب کے عنوان سے قطعی کوئی تعلق نہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کی تاریخ ولادت تک نہیں لکھی گئی اورنہ ہی ان کے والدین کے حوالہ سے کوئی معلومات فراہم کی گئی۔اس باب میں پہلی مرتبہ مشہور صوفی بزرگ امیر حسن سجزی کا نام استعمال ہوا ہے۔ مگر اس کو ’’سنجری ‘‘لکھا گیا ہے اور اس روایت کو پوری کتاب میں بڑے تسلسل سے قائم رکھا گیا ہے۔
تیسرے باب کا عنوان ہے ’’سلطان جی مسند ارشاد پر‘‘۔ اس باب میں حضرت نظام الدین اولیاء کی زندگی کے دوسرے دور کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک جگہ لکھا گیا ہے کہ:
’’حضرت بابا کے حکم کے مطابق آپ نے بیعت ہونے کے بعد قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔‘‘
(ص : 75)
حالانکہ اسی اشاعتی ادارہ کی ایک اور کتاب ’’افضل الفوائد ‘‘ میں لکھا گیا ہے کہ:
’’آپ نے حضرت مولانا شادی مقری سے ایک ہی پارہ قرآن مجید کا پڑھا اور اس پارہ کی برکت سے آپ نے تمام قرآن شریف ختم کیا۔‘‘ (افضل الفوائد: ص 24)
اب دونوں عبارتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد کیا سمجھا جائے کہ کونسی عبارت درست ہے؟ایک اور جگہ لکھا گیا ہے کہ:
’’حضرت معروف کرخی کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو عمل کا دروازہ بند کر دیتا ہے اور بحث و مجادلہ کا دروازہ کھول دیتا ہے‘‘۔ (ص: 88)
اس جگہ شاید’’عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے‘‘ ہونا چاہیے تھا۔جس سے عبارت کا مفہوم ہی بدل کر رہ گیا۔ آپ کے سن وفات کی تاریخ 18 ربیع الثانی لکھی گئی ہے (ص:106) جبکہ افضل الفوائد میں یہ تاریخ 17 ربیع الثانی ہے ( افضل الفوائد: ص 26)سیر الاولیاء کے مولف نے تاریخ پیدائش 636ھ قرار دی ہے جبکہ وفات 725ھ اور لکھا ہے کہ آپ نے 99 برس کی عمر پائی حالانکہ اس لحاظ سے ان کی عمر 89سال بنتی ہے۔ ان میں سے کس کو درست سمجھا جائے؟
حضرت نظام الدین اولیاء کو خرقہ خلافت کب ملا؟ اس حوالہ سے مولف کی رائے یہ ہے 13 رمضان المبارک 669ہجری کو بابا فرید نے خلافت نامہ لکھ کر دیا۔ (ص: 64) لیکن اس کے بالکل برعکس افضل الفوائد کے مطابق 2 ربیع الاول 656ہجری میں آپ کو خلافت عطا کی گئی۔ (ص: 26) جبکہ فوائد الفواد میں یہ تاریخ 10 رجب المرجب 655ھ لکھی گئی ہے (فوائد الفواد: ص 49) ۔ اب کس کو درست سمجھا جائے؟
’’حضرت بابا کے حکم کے مطابق آپ نے بیعت ہونے کے بعد قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔‘‘
(ص : 75)
حالانکہ اسی اشاعتی ادارہ کی ایک اور کتاب ’’افضل الفوائد ‘‘ میں لکھا گیا ہے کہ:
’’آپ نے حضرت مولانا شادی مقری سے ایک ہی پارہ قرآن مجید کا پڑھا اور اس پارہ کی برکت سے آپ نے تمام قرآن شریف ختم کیا۔‘‘ (افضل الفوائد: ص 24)
اب دونوں عبارتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد کیا سمجھا جائے کہ کونسی عبارت درست ہے؟ایک اور جگہ لکھا گیا ہے کہ:
’’حضرت معروف کرخی کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو عمل کا دروازہ بند کر دیتا ہے اور بحث و مجادلہ کا دروازہ کھول دیتا ہے‘‘۔ (ص: 88)
اس جگہ شاید’’عمل کا دروازہ کھول دیتا ہے‘‘ ہونا چاہیے تھا۔جس سے عبارت کا مفہوم ہی بدل کر رہ گیا۔ آپ کے سن وفات کی تاریخ 18 ربیع الثانی لکھی گئی ہے (ص:106) جبکہ افضل الفوائد میں یہ تاریخ 17 ربیع الثانی ہے ( افضل الفوائد: ص 26)سیر الاولیاء کے مولف نے تاریخ پیدائش 636ھ قرار دی ہے جبکہ وفات 725ھ اور لکھا ہے کہ آپ نے 99 برس کی عمر پائی حالانکہ اس لحاظ سے ان کی عمر 89سال بنتی ہے۔ ان میں سے کس کو درست سمجھا جائے؟
حضرت نظام الدین اولیاء کو خرقہ خلافت کب ملا؟ اس حوالہ سے مولف کی رائے یہ ہے 13 رمضان المبارک 669ہجری کو بابا فرید نے خلافت نامہ لکھ کر دیا۔ (ص: 64) لیکن اس کے بالکل برعکس افضل الفوائد کے مطابق 2 ربیع الاول 656ہجری میں آپ کو خلافت عطا کی گئی۔ (ص: 26) جبکہ فوائد الفواد میں یہ تاریخ 10 رجب المرجب 655ھ لکھی گئی ہے (فوائد الفواد: ص 49) ۔ اب کس کو درست سمجھا جائے؟
چوتھا باب حضرت کی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ اس باب کے شروع میں قرآن کریم کی آیات کے حوالہ جات دینے سے گریز کیا گیا ہے۔ اور اکثر آیات و احادیث کی عبارت دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مولف نے اس کے پروف پڑھنے کی زحمت برداشت نہیں کی۔ مولف نے دنیا کی بے رغبتی اور ترک دنیا کے حوالہ سے بہت سی آیات بطور دلیل پیش کی ہیں مگر وہ اس موضوع میں انصاف سے کام نہیں لے پائے۔ قرآن و حدیث میں دنیا کی خدمت کے حوالہ سے جو کچھ ہمیں ملتا ہے اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ہندوؤں کی طرح تجردانہ زندگی گزاری جائے یا دنیا سے بھاگ کر جنگلوں میں پناہ لے لی جائے اور بزعم خود یہ سمجھا جائے کہ ان کی آخرت سنور گئی اور وہ نجات پا گئے۔ اگر ان آیات یا احادیث کا یہی مطلب لے لیا جائے تو پھر ہم میں اور ہندوؤں میں کیا فرق و امتیاز رہ جاتا ہے۔ لہٰذا دنیا کی اس مذمت سے مراد یہ ہے کہ دنیا ہی کو سب کچھ نہ سمجھ لیا جائے اور آخرت پر دنیا کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس کے لئے اسلام ہمیں اعتدال کی راہ دکھاتا اور یہی صوفیائے عظام کی محنت کا ثمرہ بھی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مولف نے اس سے اگلی سرخی ’’اطاعت و زہد میں اعتدال‘‘ کے نام سے باندھی ہے جس میں عبادت وغیرہ میں اعتدال کے حوالہ سے بحث کی گئی ہے اور اس بحث میں قرآن و حدیث سے استدلال کرنے کی بجائے صوفیاء کے اقوال پر اکتفاء کیا ہے۔ جس سے قاری ابہام کا شکار ہو جاتا ہے کہ درست موقف کیا ہے؟ اگر ان سرخیوں کو الگ الگ ذکر کرنے کی بجائے ان میں تطبیق کی کوئی صورت نکالی جاتی تو اس ابہام کو دور کیا جا سکتا تھا۔
تاہم اس باب کی اہم چیز حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے سماجی کردار کے حوالہ سے ان کی تعلیمات وغیرہ کا جزوی ذکر ہے۔ عام طور پر صوفیاء پر لکھی گئی کتب میں کرامات پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے اور خداسے شناسا کروانے والی شخصیات کو خدا بنا دیا جاتا ہے۔ اس حوالہ سے مولف اپنا دامن بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے اجمالاً ہی سہی مگر حضرت سلطان جی کے سماجی کردار کے حوالہ سے بڑی مفید معلومات دی ہیں۔
تاہم اس باب کی اہم چیز حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے سماجی کردار کے حوالہ سے ان کی تعلیمات وغیرہ کا جزوی ذکر ہے۔ عام طور پر صوفیاء پر لکھی گئی کتب میں کرامات پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے اور خداسے شناسا کروانے والی شخصیات کو خدا بنا دیا جاتا ہے۔ اس حوالہ سے مولف اپنا دامن بچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے اجمالاً ہی سہی مگر حضرت سلطان جی کے سماجی کردار کے حوالہ سے بڑی مفید معلومات دی ہیں۔
پانچویں باب کا عنوان ہے ’’ملفوظات‘‘۔ اس باب میں سلطان جی کے ملفوظات کا گلدستہ پیش کیا گیا ہے۔ تاہم میرے نزدیک جن ملفوظات کا انتخاب کیا گیا ہے ان کی بجائے اگر ایسے ملفوظات پیش کئے جاتے جن میں اخلاقی اچھائی اور سماجی بہتری کے حوالہ سے گفتگو کی گئی ہے تو ان کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جاتی۔ اس حوالہ سے مولف بڑی آسانی سے اپنے مآخذ میں سے اس نوعیت کے ملفوظات کو اکٹھا کر سکتے تھے۔
کتاب کا سب سے اہم اور قابل مطالعہ باب آٹھواں باب ہے۔ جس کا عنوان ’’نظامی تعلیمات کی عصری معنویت‘‘ ہے۔ میرے خیال میں اگر مولف صرف یہی باب قائم رکھتے اور باقی سب کچھ نہ بھی لکھتے تو کتاب کی افادیت وہی ہوتی جو اب ہے۔ دراصل عصر حاضر میں تصوف کی دم توڑتی روایت کو جو سب سے بڑا چیلنج در پیش ہے وہ یہی ایک موضوع ہے کہ عصر حاضر میں تصوف کی تعلیمات کی معنویت اور اس کی ضرورت و اہمیت پر کام کیا جائے ۔ اس حوالہ سے مولف نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا ہے۔
کتاب کے ضمیمہ میں مولف نے سلطان جی کی سیرت کے بنیادی ماخذ کے حوالے سے 4 صفحات تحریر کئے ہیں۔ مولف نے لکھا ہے کہ سلطان جی کے ملفوظات شیخ عز الدین نے ’’تحفۃ الابرار و کرامۃ الاخیار‘‘ اور عبد العزیز بن خواجہ ابو بکر نے ’’مجمع الفوائد‘‘ کے نام سے جمع کئے تھے۔ (ص: 209) مگر مولف نے وضاحت نہیں کی کہ آیا یہ مجموعے اب دستیاب بھی ہیں یا نہیں۔ نیز اس بات کا ماخذ کیا ہے؟
مولف نے کتابیات میں بہت سی ایسی کتب کا تذکرہ نہیں کیا جن کے حوالے کثرت سے دیے گئے ہیں۔ مثلاً
۱۔ قرآن کریم ۲۔ جملہ کتب احادیث ۳۔ تدوین حدیث
۴۔ الادب المفرد ۵۔ عقود الجمان ۶۔ احسن الاقوال
۷۔ الفوائد البہیہ ۸۔ الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ۹۔ طبقات الصوفیہ
۱۰۔ اسلامی معاشیات ۱۱۔ سیر الاقطاب ۱۲۔ شریعت و طریقت کا تلازم
نیز بہت سی ایسی کتب کا ذکر کتابیات میں آیا ہے جن میں سے کسی ایک کا حوالہ بھی پوری کتاب میں نقل نہیں ہوا۔ اگر کتاب کا عمومی جائزہ لیا جائے تو عر بی عبارات میں بہت سی اغلاط ہیں بالخصوص قرآنی آیات اور احادیث کے معاملہ میں بالکل خیال نہیں رکھا گیا۔
کتاب بنیادی طور پر اگرچہ عمدہ ہے لیکن اگر مولف اس پر نظر ثانی فرما لیتے اور اسے مقالہ سے کتابی شکل میں لانے کے حوالہ سے تھوڑی محنت کر لیتے تو اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ ناشرین کی بارگاہ میں بس اتنی گزارش ہے کہ اگلی مرتبہ طباعت سے قبل اسے کسی
علمی شخصیت کی نظر سے گزارنے کی زحمت گوارا کریں۔ ورنہ اتنے عمدہ انداز میں طبع کی گئی اس کتاب کی ’’حضرت نظام الدین اولیاء‘‘ سے رسمی محبت کرنے والوں کے کتب خانوں کے علاوہ اور کہیں جگہ نہ ہو گی۔
کتاب کا سب سے اہم اور قابل مطالعہ باب آٹھواں باب ہے۔ جس کا عنوان ’’نظامی تعلیمات کی عصری معنویت‘‘ ہے۔ میرے خیال میں اگر مولف صرف یہی باب قائم رکھتے اور باقی سب کچھ نہ بھی لکھتے تو کتاب کی افادیت وہی ہوتی جو اب ہے۔ دراصل عصر حاضر میں تصوف کی دم توڑتی روایت کو جو سب سے بڑا چیلنج در پیش ہے وہ یہی ایک موضوع ہے کہ عصر حاضر میں تصوف کی تعلیمات کی معنویت اور اس کی ضرورت و اہمیت پر کام کیا جائے ۔ اس حوالہ سے مولف نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا ہے۔
کتاب کے ضمیمہ میں مولف نے سلطان جی کی سیرت کے بنیادی ماخذ کے حوالے سے 4 صفحات تحریر کئے ہیں۔ مولف نے لکھا ہے کہ سلطان جی کے ملفوظات شیخ عز الدین نے ’’تحفۃ الابرار و کرامۃ الاخیار‘‘ اور عبد العزیز بن خواجہ ابو بکر نے ’’مجمع الفوائد‘‘ کے نام سے جمع کئے تھے۔ (ص: 209) مگر مولف نے وضاحت نہیں کی کہ آیا یہ مجموعے اب دستیاب بھی ہیں یا نہیں۔ نیز اس بات کا ماخذ کیا ہے؟
مولف نے کتابیات میں بہت سی ایسی کتب کا تذکرہ نہیں کیا جن کے حوالے کثرت سے دیے گئے ہیں۔ مثلاً
۱۔ قرآن کریم ۲۔ جملہ کتب احادیث ۳۔ تدوین حدیث
۴۔ الادب المفرد ۵۔ عقود الجمان ۶۔ احسن الاقوال
۷۔ الفوائد البہیہ ۸۔ الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ ۹۔ طبقات الصوفیہ
۱۰۔ اسلامی معاشیات ۱۱۔ سیر الاقطاب ۱۲۔ شریعت و طریقت کا تلازم
نیز بہت سی ایسی کتب کا ذکر کتابیات میں آیا ہے جن میں سے کسی ایک کا حوالہ بھی پوری کتاب میں نقل نہیں ہوا۔ اگر کتاب کا عمومی جائزہ لیا جائے تو عر بی عبارات میں بہت سی اغلاط ہیں بالخصوص قرآنی آیات اور احادیث کے معاملہ میں بالکل خیال نہیں رکھا گیا۔
کتاب بنیادی طور پر اگرچہ عمدہ ہے لیکن اگر مولف اس پر نظر ثانی فرما لیتے اور اسے مقالہ سے کتابی شکل میں لانے کے حوالہ سے تھوڑی محنت کر لیتے تو اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ ناشرین کی بارگاہ میں بس اتنی گزارش ہے کہ اگلی مرتبہ طباعت سے قبل اسے کسی
علمی شخصیت کی نظر سے گزارنے کی زحمت گوارا کریں۔ ورنہ اتنے عمدہ انداز میں طبع کی گئی اس کتاب کی ’’حضرت نظام الدین اولیاء‘‘ سے رسمی محبت کرنے والوں کے کتب خانوں کے علاوہ اور کہیں جگہ نہ ہو گی۔
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔