تحریر:محمدانس حسان
قانون بین الممالک پر ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی نایاب کتاب پر تحقیق کا کام جاری ہے۔یہ کام میری توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔مآخذ ومراجع کا کام تو کٹھن ہے ہی اس پر مستزاد یہ کہ کتاب کی تحریر کے بعد سے اب تک قریب ستر سال بیت چلے ہیں اور اس عرصے میں قانون بین الممالک پر بہت کچھ اضافے ہوئے ہیں۔اس بناء پر جگہ جگہ حواشی وتعلیقات کی ضرورت پڑ رہی ہے اور کام بہت آہستہ ہورہا ہے۔ اللہ کی مدد اور توفیق سے ہی کام مکمل ہو تو ہو ورنہ من آنم کہ من دانم۔ ذیل میں اس کتاب سے ایک اقتباس پیش کر رہا ہوں۔
-----------------------------------------------------------------------------------
۵۷۰ء میں حضرت محمدؐ کی شہر مکہ میں ولادت ہوئی۔ چالیس سال کی عمر میں انہوں نے خدا کے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کر کے اپنے ہم وطنوں اور ہم عصروں کی ہر جہتی اصلاح شروع کی۔ ۶۲۲ء میں ہم وطنوں کی سخت مخالفت سے مجبور ہو کر آپ مدینہ ہجرت کر گئے اور اس شہری مملکت کے باشندوں کے بہ کثرت مسلمان ہونے کے باعث وہاں کے مختار کل ہو گئے۔ ہجرت کے بعد آپ صرف دس سال زندہ رہے لیکن اس عرصے میں ایک سیاسی اُمت (پارٹی) کی بنا ڈالی جس کا دستور العمل کلام اللہ یعنی قرآن مجید مقرر کیا گیا جو آپ پر وحی کے ذریعے وقتاً فوقتاً الہام ہوا تھا اور تمام مذہبی پیشواؤں کے بر خلاف آپ نے ایک مملکت قائم کی اور خود چلا کر نمونہ عمل بھی چھوڑا۔ دس سالہ مدنی زندگی میں آپؐ کا اقتدار شہر مدینہ سے پھیل کر جزیرہ نمائے عرب اور جنوبی فلسطین کے دس لاکھ مربع میل رقبے پر محیط ہو گیا۔ اس عرصے میں آپ کو بہت سی لڑائیاں بھی لڑنی پڑیں لیکن اس پوری فتح کے لئے دشمن کے بہ مشکل ڈھائی سو آدمیوں کا خون بہایا گیا اور (اگر بیر معونہ میں دھوکے سے اور اُحد میں فوجی نافرمانی کے نتیجے میں بھاگڑ کے وقت قتل شدہ ایک سو تیس آدمی مستثنا کر دیئے جائیں تو) مسلمانوں کے بمشکل ایک سو آدمی مارے گئے تھے۔ غرض عہد نبوی میں دس سال تک اوسطاً روزانہ دو سو پچھتر مربع میل کا رقبہ فتح ہوا اور مسلمان فوج سے دس سال تک اوسطاً ماہانہ صرف ایک آدمی مارا جاتا رہا۔ کوئی حیرت نہیں جو انسانی خون کی اتنی عزت کرنے والے موسّسِ سلطنت ہی کی تعلیم سے جنگ کی بے رحمی کم ہو گئی ہو۔ آنحضرت ﷺ کے بعد دس ہی بارہ سال میں مسلمان شدہ عرب شرق سے مغرب تک پھیل گئے اور مصر و طرابلس، فلسطین و شام، عراق و آرمینیا، ایران و ترکستان سب ان کے زیر نگیں ہو گئے اور قیصر و کسریٰ کی حکومتیں انہوں نے زیرو زبر کر دیں۔ ابھی ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ اسپین و فرانس اور اٹلی و ہندوستان تک ان کے قدم پہنچ گئے اور صدیوں وہاں دادِ حکومت دیتے رہے۔ اور اکثر مقاموں کا نہ صرف مذہب بلکہ زبان تک بدل دی۔
-----------------------------------------------------------------------------------
۵۷۰ء میں حضرت محمدؐ کی شہر مکہ میں ولادت ہوئی۔ چالیس سال کی عمر میں انہوں نے خدا کے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کر کے اپنے ہم وطنوں اور ہم عصروں کی ہر جہتی اصلاح شروع کی۔ ۶۲۲ء میں ہم وطنوں کی سخت مخالفت سے مجبور ہو کر آپ مدینہ ہجرت کر گئے اور اس شہری مملکت کے باشندوں کے بہ کثرت مسلمان ہونے کے باعث وہاں کے مختار کل ہو گئے۔ ہجرت کے بعد آپ صرف دس سال زندہ رہے لیکن اس عرصے میں ایک سیاسی اُمت (پارٹی) کی بنا ڈالی جس کا دستور العمل کلام اللہ یعنی قرآن مجید مقرر کیا گیا جو آپ پر وحی کے ذریعے وقتاً فوقتاً الہام ہوا تھا اور تمام مذہبی پیشواؤں کے بر خلاف آپ نے ایک مملکت قائم کی اور خود چلا کر نمونہ عمل بھی چھوڑا۔ دس سالہ مدنی زندگی میں آپؐ کا اقتدار شہر مدینہ سے پھیل کر جزیرہ نمائے عرب اور جنوبی فلسطین کے دس لاکھ مربع میل رقبے پر محیط ہو گیا۔ اس عرصے میں آپ کو بہت سی لڑائیاں بھی لڑنی پڑیں لیکن اس پوری فتح کے لئے دشمن کے بہ مشکل ڈھائی سو آدمیوں کا خون بہایا گیا اور (اگر بیر معونہ میں دھوکے سے اور اُحد میں فوجی نافرمانی کے نتیجے میں بھاگڑ کے وقت قتل شدہ ایک سو تیس آدمی مستثنا کر دیئے جائیں تو) مسلمانوں کے بمشکل ایک سو آدمی مارے گئے تھے۔ غرض عہد نبوی میں دس سال تک اوسطاً روزانہ دو سو پچھتر مربع میل کا رقبہ فتح ہوا اور مسلمان فوج سے دس سال تک اوسطاً ماہانہ صرف ایک آدمی مارا جاتا رہا۔ کوئی حیرت نہیں جو انسانی خون کی اتنی عزت کرنے والے موسّسِ سلطنت ہی کی تعلیم سے جنگ کی بے رحمی کم ہو گئی ہو۔ آنحضرت ﷺ کے بعد دس ہی بارہ سال میں مسلمان شدہ عرب شرق سے مغرب تک پھیل گئے اور مصر و طرابلس، فلسطین و شام، عراق و آرمینیا، ایران و ترکستان سب ان کے زیر نگیں ہو گئے اور قیصر و کسریٰ کی حکومتیں انہوں نے زیرو زبر کر دیں۔ ابھی ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ اسپین و فرانس اور اٹلی و ہندوستان تک ان کے قدم پہنچ گئے اور صدیوں وہاں دادِ حکومت دیتے رہے۔ اور اکثر مقاموں کا نہ صرف مذہب بلکہ زبان تک بدل دی۔
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔