Pages

بدھ، 3 فروری، 2016

تبصرے سید متین احمد

Syed Mateen Ahmad

کتابیں:
---------------
ہندوستان کے صاحب علم ڈاکٹر نعیم صدیقی ندوی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ کتابوں پر تعارف اور تبصرے کی روایت بہت قدیم ہے۔ابن الندیم کی الفہرست اور حاجی خلیفہ کاتب چلپی کی کشف الظنون آج بھی محققین کا ایک مستند مآخذ خیال کی جاتی ہیں۔علاوہ ازیں اس موضوع پر بڑی تقطیع کی چار ضخیم جلدوں پر مشتمل معجم المطبوعات اس لحاظ سے بے حد اہم اور قیمتی کتاب ہے کہ اس میں مختلف علوم وفنون کی بلامبالغہ ہزاروں کتابوں کے مختصر تعارف کے ساتھ ان کی موضوعی اہمیت اور صاحبِ کتاب کا شخصی جغرافیہ چند ہی سطروں میں سامنے آ جاتا ہے۔
مجلات:
-----------
اردو میں تبصرہ نگاری صحیح طور پر بیسویں صدی میں وجود پذیر ہوئی۔اس باب میں دارالمصنفین کے مجلے "معارف" کو یقینا ایک امتیاز حاصل ہے کہ اپنے وقتِ تاسیس سے علامہ شبلی نعمانیؒ کے مجوزہ نقشے کے مطابق مطبوعاتِ جدیدہ کے نام سے مستقل باب قائم کیا جس میں اردو، عربی، فارسی اور انگریزی کی نئی کتابوں پر تعارف وتبصرہ کا سلسلہ جاری کیا جو ہنوز قائم ہے۔اس رسالے میں سید سلیمان ندوی ، شاہ معین الدین ندوی، مولانا مجیب اللہ ندوی وغیرہم کے تبصرے اپنی مثال آپ ہیں۔
بیسویں صدی میں تبصرہ نگاری کے فن میں ماہر القادری نے فاران میں اور عامر عثمانی نے تجلی میں تبصرے کی جوت جگائی اور کتابوں پر جان دار تبصرے شائع کیا۔ماہر کے ادبی اور لسانی معرکے کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔
اردو دنیا میں مولانا سید ابو لاعلی مودودیؒ کے راہوارِ قلم نے جن جن میادین میں اپنی جولانیوں کے کرشمے دکھائے، ان میں کتابوں پر تبصرے بھی ہیں۔"ترجمان القرآن" کے سابقہ فائل دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا نے کئی موضوعات پر کتابوں پر جان دار تبصرے تحریر فرمائے جن کا ایک بہت عمدہ انتخاب پروفیسر خورشید احمد نے "ادبیاتِ مودودی" میں بھی جمع کر دیا ہے۔اب تو مصنفین کے کتابوں پر تبصرے مستقل شکل میں مدون ہو کر شائع ہو رہے ہیں اور ہمارے یہاں جو چیز کتابوں پر تقریظ کی شکل میں شروع ہوئی تھی، وہ اب ایک صنفِ ادب بن چکی ہے ۔
ماہ نامہ البلاغ میں مولانا تقی عثمانی صاحب کا مفکرانہ قلم کتابوں کے تجزیے پر ایک اعلا روایت کا حامل رہا ہے جو کہ اب "تبصرے" کے نام مدون ہو کر شائع چکے ہیں۔
ہندوستان کے نام ور محقق ڈاکٹر الیاس اعظمی کے تبصرے "کتابیں " کے نام سے مدون ہو کر شائع ہو رہے ہیں جن میں اکثر کی حیثیت بک رپورٹ کی ہے جب کہ بہت سے تبصرے جان دار اور تجزیاتی ہیں اور ماہ نامہ "الرشاد" میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے مجلے " فکرونظر " اور انگریزی مجلے Islamic Studies میں ڈاکٹر فضل الرحمان نے شروع سے کتابوں پر تبصرے کی روایت ڈال دی تھی اور ان کے تحت خود ڈاکٹر فضل الرحمان،مولانا جعفر شاہ پھلواروی، مولانا عبدالقدوس ہاشمی، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر خالد مسعود اور کئی اہلِ علم کتابوں پر تبصرے تحریر کرتے رہے ہیں جنھیں مدون کیا جائے تو کئی جلدیں تیار ہو سکتی ہیں۔
عرب دنیا میں علامہ رشید رضا نے کبھی "المنار" میں تبصروں کی طرح ڈالی تھی اور اس مجلے کے فائلوں میں ہمیں کئی عمدہ کتابوں پر تجزیاتی تبصرے ملتے ہیں۔
اردو دنیا میں کتابوں پر تبصروں کے حوالے سے دو مجلے عمدہ ہیں اورتبصرہ جات کی روایت میں ایک روشن اضافہ ؛ پاکستان میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کا شش ماہی "نقطۂ نظر"ابھی تک چالیس کے قریب ایشوز شائع کر چکا ہے جو مکمل طور پر تبصرۂ کتاب پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے موجودہ تبصروں میں ڈاکٹر سفیر اختر نے تبصرہ نگاری کے باب میں بجا طور پر حافظ کے بقول "ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما" کا اعزا ز پا لیا ہے۔
دوسرا اردو مجلہ انڈیا دھلی سے چھپنے والا اردو بک ریویو ہے جو ہندوستان کی تازہ مطبوعات سے شناسائی فراہم کرنے میں غیر معمولی چیز ہے۔
انگریزی دنیا میں Muslim world Book Review بہت عمدہ مجلہ ہے جس میں انگریزی دنیا میں شائع ہونے والی کتابوں پر جاناتھن اے سی براؤن، ڈاکٹر عبدالرحیم قدوائی ، ڈاکٹر محمد الغزالی جیسے اہل علم کے قلم سے عمدہ تحقیقی تبصرے شائع ہوتے ہیں۔
ہندوستان کا مجلہ "تحقیقاتِ اسلامی" تبصرے کے باب میں ایک بہت عمدہ مجلہ ہے جس پر موجودہ وقت میں ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کے تبصرے نہایت جچے تلے اور اعلا معیار کے ہوتے ہیں۔
مقدماتِ کتب:
-----------
تبصروں کی ایک عمدہ روایت وہ مقدماتِ تحقیق ہیں جو خاص طور عرب دنیا میں دیکھنے میں نظر آتی ہے۔احمد محمد شاکر، محمود شاکر، بشار عواد معروف، شعیب ارنوؤط، عبدالعزیز میمنی، سید احمد صقر، مصطفی صادق رافعی اور دیگر بے شمار اہل علم کے مقدمے، تقاریظ اپنی مثال آپ ہیں۔اردو دنیا میں مولانا ابو الحسن علی ندوی، مولانا قاری محمد طیب،مولانا عبدالماجد دریابادی، محترم سید خالد جامعی، مولانا حسن مثنی ندوی، سہیل عمر ، احمد جاوید ، ڈاکٹر محمد امین، نیاز فتح پوری، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ڈاکٹر اکرام چغتائی، ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی، مولانا امین احسن اصلاحی، الطاف احمد اعظمی، کبیر احمد جائسی اور دیگر بے شمار اہلِ قلم کے تبصرے انسان کے علم میں اضافے اور فنِ تبصرہ سے شناسائی فراہم کرنے کا عمدہ وسیلہ ہیں۔
کتابوں پر تبصرے کا ایک اہم مصدر اہل علم کے خطوط ہیں جن میں کتابوں پر بہت عمدہ آرا ملتی ہیں۔
انٹرنیٹ پر اس حوالے سے اب مستقل ویب سائٹس بھی موجود ہیں جو نئی کتابوں پر تبصرے شائع کرتی ہیں۔ روزنامہ ڈان میں BOOKS & AUTHORS سیکشن بھی عمدہ چیز ہے۔
اگر کوئی طالب صرف ان تبصروں کی کتابیات مرتب کرنا چاہے تو یہ ایک مستقل علمی کام ہے کہ کتابوں پر تبصروں کے کیا کیا معاون علمی مصادر ہیں جو اس باب میں فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ یہ سطور روا روی میں تحریر کر دی گئی ہیں کہ معیاری تبصرے تحریر کرنے کے لیے ان نمونوں کا مطالعہ ضروری ہے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔