Pages

بدھ، 10 جون، 2015

سابق امریکی صدور کی لائبریریاں ، عصر حاضر کی تاریخ

مام عالمی رہنماؤں کے لیے آسان نہیں ہے کہ وہ اپنی مدت اقتدار کے بعد بھی عوامی سطح پر دور روس یادیں چھوڑ جائیں لیکن امریکی صدور کے لیے یہ کام قدرے سہل ہے۔
امریکی صدور جب اپنی مدتِ صدارت مکمل کر کے وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوتے ہیں تو انہیں ایک عوامی لائبریری کے قیام کا اعزاز حاصل ہوتا ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنے دور اقتدار کے اہم دستاویزات کی نمائش کرتے ہیں بلکہ اس لائبریری کے ساتھ ہی ایک میوزیم بھی متصل ہوتا ہے۔ عمومی طور پر سابق صدور اپنے آبائی شہر میں اس طرح کی لائبریریاں قائم کرتے ہیں۔
سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے اپنی لائبریری کیلی فورنیا کے شہر سِمی ویلی میں بنائی، بل کلنٹن نے یہ یادگاری عمارت ریاست آرکنساس کے دارالحکومت لٹل راک میں قائم کی جبکہ جارج ڈبلیو بش نے اپنے دور اقتدار کی یادوں کو ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں عام کیا۔
موجودہ امریکی صدر باراک اوباما اگرچہ مزید دو برس وائٹ ہاؤس میں گزاریں گے لیکن انہوں نے اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ابھی سے ہی اپنی لائبریری کے قیام کے حوالے سے کام شروع کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق وہ شکاگو میں یہ لائبریری قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جہاں سے انہوں نے بطور کمیونٹی آرگنائزر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
1933ء تا 1945ء صدر کے عہدے پر براجمان رہنے والے ڈیموکریٹ سیاستدان فرنکلین روزویلٹ نے پہلی مرتبہ اس روایت کی بنیاد ڈالتے ہوئے اپنی لائبریری قائم کی تھی، جہاں ان کے دور اقتدار کے انتہائی اہم اور نادر دستاویزات رکھے گئے تھے۔ عام عوام بالخصوص تاریخ دان، سیاسیات سے شغف رکھنے والے افراد اور سیاح ایسی لائبرئریوں میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما بطور کمیونٹی آرگنائزر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تھا
ایسی ہی ایک لائبریری ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں بھی واقع ہے، جہاں لِنڈن بی جانسن کے دور اقتدار کی دستاویزات اور ان کی ٹیلی فون ریکارڈنگز بھی موجود ہیں۔ اس لائبریری میں جانے والے دیوار پر لگے ٹیلی فون کا ریسور اٹھاتے ہیں تو وہ جانسن کی ریکارڈ کی ہوئی گفتگو سن سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ عمارتیں صرف لائبریریاں نہیں بلکہ ان میں عصر حاضر کی تاریخ سمیٹ دی گئی ہے۔
ان لائبریریوں کا مقصد امریکا کے مختلف صدور کے دور اقتدار میں ’کیا ہوا، اور کیسے کیا گیا‘ جیسے سوالات کے جواب دینا ہے بلکہ ساتھ ہی یہاں ان گنت ان کہی کہانیاں بھی ملتی ہیں۔ ان عمارتوں میں جا کر امریکی صدور کے دور میں کیے جانے والے فیصلوں اور اقدامات کے بارے میں غیرجانبدار پہلوؤں کے بارے میں بھی آگاہی ملتی ہے۔
کینٹکی میں واقع یونیورسٹی آف لوئیس ول سے وابستہ پروفیسر بینجمن ہوفباؤئر اس روایت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دراصل یوں امریکی صدور کی ان لائبریریوں اور میوزیمز میں جا کر ان کے دور اقتدار کے بارے میں متعدد پہلو اجاگر ہوتے ہیں اور عوام سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں نے بطور صدر کیا کیا فیصلے کیے اور ان کے کیا اثرات نکلے۔
بینجمن ہوفباؤئر کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ صدر کی آخری مہم ہوتی ہے، جس دوران وہ کوشش کر سکتا ہے کہ اسے تاریخ میں کس قدر بہتر مقام حاصل ہو سکتا ہے، ’’ان لائبریریوں اور میوزیمز کا بنانے کا مقصد صرف یہی ہے۔‘‘

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔