((((((((((((((( مسلمانوں کی کتاب دشمنی )))))))))))))))
(((((((( محمدانس حسان ))))))))))
مسلمانوں کی کتاب دوستی تو مشہور ہے ہی مگرواقعہ یہ ہے کہ کتاب دشمنی میں بھی ہم نےمثالیں قائم کی ہیں۔ یقین نہ آئے تونجی و سرکاری کتب خانوں کی تاریکی میں گلتی سڑتی ان قلمی کتب کا کبھی جائزہ لے لیجئے جو آج بھی اپنے لکھنے والوں سے شکوہ سنج ہیں کہ انہیں کن کے رحم وکرم پر چھوڑ گئے۔ اقبال کا شعر ہے کہ:
کتابیں اپنے آباء کی جو دیکھیں ہم نے یورپ میں
اقبال نے یہ شعر یاتو مسلمانوں سے حد درجہ خوش فہمی کی بناء پر کہا ہوگا یا پھر مسلمانوں کوطنزملیح کانشانہ بنایا ہے۔ورنہ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے آباء کی کتابوں کو جس طرح یورپ نے محفوظ کیا ہمیں ان کا احسان مندہوناچاہیے۔ممکن ہی نہیں تھاکہ یہ کتب ہم ایسےناخلفوں کے پاس رہ جاتیں تو کوئی ان کے نام سے بھی واقف ہوتا۔اگر آج اقبال زندہ ہوتے تو یہ شعر ان کے دیوان میں نہ ہوتا۔
میرے ایک پروفیسردوست کچھ عرصہ ہوا امریکہ گئے۔ انہوں نےاپنے اس سفرکاایک واقعہ سنایا ۔آپ بھی سن لیجئے۔کہتے ہیں کہ وقت گزاری کے لیے ایک مرتبہ میں ایک سرکاری لائبریری میں چلاگیا۔ ریسپشن پر موجود شخص نے میری آمد کا سبب دریافت کیا۔مقصد تو کوئی تھا نہیں میں نے یونہی کہہ دیا کہ اگر آپ کی لائبریری میں حضرت عمر سے متعلق کوئی کتاب ہوتو میں پڑھنا چاہوں گا۔ یہ سن کر اس نےکہا کہ :
Sir we have five thousand books about umar.it will be easy for us if u mention specific book u want.
Sir we have five thousand books about umar.it will be easy for us if u mention specific book u want.
ایک طرف تویہ حال ہے اور دوسری طرف ہماری بدمزاقی بھی ملاحظہ کرلیجیے۔ مظفرگڑھ میں ایک بزرگ تھے جو مولانا عبدالعزیز پرہاروی کے خاندان سے تھے۔ان کے پاس قریب تین ہزار نایاب قلمی کتب تھیں۔میں نے ایک مرتبہ محض دیکھنا چاہا مگر انہوں نے دیکھنے کی بھی اجازت نہ دی۔ شنید ہے کہ چند سال پہلے مظفرگڑھ میں جو سیلاب آیا اس میں یہ سارا ذخیرہ بہہ کر ضائع ہوگیا۔میں نے جب یہ سنا تو یقین جانیے تاتاریوں کی کتاب دشمنی بھی ہیچ معلوم ہوئی۔
ہمارے ایک استاد ہیں جو کتابوں سے حد درجہ محبت کرتے ہیں۔ قلمی اور مطبوعہ کتب کا ایک اچھا کلیکشن ان کے پاس ہے۔ چندروزقبل بڑے افسردہ حالت میں ملے۔ سبب پوچھا تو فرمانے لگے:
میرے پاس قلمی کتب کا عمدہ ذخیرہ تھا۔ کچھ روز ہوئے اہلیہ نے کتب کو ترتیب اور سلیقےسے رکھنے کاحکم دیا جسے میں ٹال گیا۔ آج ایک سفر سے گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ راکھ اڑ رہی ہے۔ اہلیہ سے دریافت کیا توسلیقہ مند اہلیہ نے جواب دیا کہ آپ کی کتب کو ترتیب سے رکھنے کے بعد جو کتب بوسیدہ اور پرانی معلوم ہوئیں انہیں جلا دیا کیونکہ شیلف میں یہ بوسیدہ کتب طبع سلیم پر گراں گزرتی ہیں۔ آدھا کام میں نے کردیا باقی کا آپ کر لیجئے۔ استاد محترم فرمانے لگے کم بخت نے آدھا نہیں سارا کام تمام کردیا۔
میرے پاس قلمی کتب کا عمدہ ذخیرہ تھا۔ کچھ روز ہوئے اہلیہ نے کتب کو ترتیب اور سلیقےسے رکھنے کاحکم دیا جسے میں ٹال گیا۔ آج ایک سفر سے گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ راکھ اڑ رہی ہے۔ اہلیہ سے دریافت کیا توسلیقہ مند اہلیہ نے جواب دیا کہ آپ کی کتب کو ترتیب سے رکھنے کے بعد جو کتب بوسیدہ اور پرانی معلوم ہوئیں انہیں جلا دیا کیونکہ شیلف میں یہ بوسیدہ کتب طبع سلیم پر گراں گزرتی ہیں۔ آدھا کام میں نے کردیا باقی کا آپ کر لیجئے۔ استاد محترم فرمانے لگے کم بخت نے آدھا نہیں سارا کام تمام کردیا۔
صرف یورپ ہی نہیں بلکہ عالم عرب بھی اب اپنی قلمی کتب کو ڈیجیٹائزڈ کرکے محفوظ کررہے ہیں اور آج نیٹ کے ذریعہ ان کا مطالعہ کچھ مشکل نہیں مگر ایک ہم ہیں کہ اس کا احساس ہی نہیں۔ اس ضمن میں ہمارے ہاں جو کوششیں ہوئی بھی ہیں وہ انفرادی نوعیت کے سبب مستقل بنیادوں پرقائم نہ رہ سکیں۔
ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں علمی ذوق کے حامل آٹے میں نمک کےبرابرجو لوگ ہیں بھی وہ اپنی اولاد میں اس ذوق کو منتقل نہیں کر پاتے۔ نتیجہ معلوم اپناعلمی ذخیرہ اس اولاد کے رحم وکرم پرچھوڑجاتے ہیں جواپنے باپ کی محنت کوڑیوں کے بھاؤبیچ کر گھر کی کشادگی کا سامان کرتے ہیں۔کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ اولاد اپنے والدکی کتب اس طرح سینٹ سینت کر رکھتی ہے کہ دیمک چاٹ جائے پر مجال ہے جو کسی انسان کو دیکھنا نصیب ہوجائے۔
متمدن ممالک میں یہ رواج ہے کہ نجی کتب خانوں کو یاتوسرکاری کتب خانے منہ مانگی قیمت پرخرید لیتے ہیں یا پھر مرحوم کے لواحقین خود سے دیدیتے ہیں۔ابھی کچھ عرصہ ہوا کہ ہمارے ایک بزرگ علمی شخصیت پروفیسر لطیف الزمان خاں کا انتقال ہوا۔ مرحوم کے پاس ہندوستان کے گپتا صاحب کے بعد غالب پر سب سے زیادہ کتب تھیں۔جسے انہوں نے بڑی محنت سے جمع کیا تھا۔مگر اولاد میں یہ ذوق منتقل نہ ہوا۔مرنے سے چند روز قبل اپنی ساری کتابیں زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو دے گئے۔ گپتا صاحب کی بھی سن لیجئے جن کے بارے میں شنید ہے کہ ان کے انتقال کے بعد ان کا کتب خانہ ممبئی یونیورسٹی کو دیدیا گیا۔ان کی بیٹی جو خود پڑھی لکھی ہیں ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ کتب انہوں نے اپنے پاس کیوں نہ رکھیں تو جواب دیا کہ یونیورسٹی میں اس ذخیرے سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں گے۔
کتنے افسوس کا مقام ہے کہ جن کتب سے مسلمان نسلوں کی پرورش ہونا تھی آج ان بوسیدہ کتب میں دیمک کی نسل پل کر جوان بلکہ بڑھاپے کے مراحل سے گزررہی ہے۔
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔