متونِ حدیث پر اشکالات
-----------------
فیس بک پر قاری حنیف ڈار صاحب کے متونِ حدیث پر اعتراضات کے حوالے سے مختلف اہلِ علم نے حصہ ڈالا ہے جن میں محترم حافظ زبیر صاحب کا contribution لائقِ تحسین ہے۔بندہ بھی اپنی بساط کی حد تک کچھ لکھنا چاہتا تھا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کئی پہلوؤں پر اچھی چیزیں لکھ دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ موضوع اتنا سیرحاصل گفت گو کی تاریخ رکھتا ہے اور عربی اور اردو میں ڈاکٹر مصطفی سباعی سے لے کر آج تک اس پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ کسی نئے لکھنے والے کے لیے کوئی قابلِ ذکر نیا پہلو عام طور پر باقی معلوم نہیں ہوتا اور سابقہ لکھی ہوئی باتوں ہی کو دھرانا پڑتا ہے۔ البتہ یہاں ایک کتاب کا ذکر کرنا مناسب ہے جسے کچھ سال پہلے شریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ نے شائع کیا تھا: متونِ حدیث پر جدید ذہن کے اشکالات- ایک تحقیقی مطالعہ؛ اس کے مصنف ڈاکٹر اکرم ورک ہیں جو ایک ذی استعدا د عالم اور محقق ہیں۔اس کتاب میں انھوں نےحجیتِ حدیث کے مسئلے کو زیادہ زیرِ بحث لانے کے بجائے ان احادیث پر فردا فردا گفت گو کی ہے جن کے متن پر جدید ذہن کو اشکالات ہوتے ہیں او ر پھر اس کی بنیاد پر وہ ہماری علمی روایت، محدثینِ عظام کی عظیم کاوشوں اور ذخیرۂ احادیث ہی سے بے زار ہو جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اکثر نوجوان کتابوں کے مطالعے کے عادی نہیں ہیں اور جس طرح کھانے میں آج کی نسل فاسٹ فوڈ پر گزارا کرتی ہے، علم کے باب میں بھی انٹرنیٹ اور میڈیا پر موجود کھچڑی ہی کو کافی سمجھتے ہیں، ورنہ اگر وہ ہمت فرمائیں اور "چند کلیوں پر قناعت" کرنے کے مزاج سے ذرا بلند ہوں تو "گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں" کا سامان بھی موجود ہے، بہ شرطے کہ طبیعت حق کی جویا ہو اور صداقت کی طلب ہو؛ ورنہ اعتراض جواب کی کوئی انتہا نہیں اور کسی کو مکمل طور پر چپ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔
فیس بک پر طویل علمی بحثیں ممکن بھی نہیں ہیں اور یہ چیزیں وقت اور فرصت چاہتی ہیں۔مذکورہ بالا کتاب ایک عمدہ تحقیقی کتاب ہے اور اسے علما کو بھی مطالعے میں رکھنا چاہیے اور جدید ذہن کے دوستوں کو بھی۔مسلم علمی روایت سے بے زار ہونے سے پہلے اس کے قد کاٹھ کو اس کے حقیقی خدوخال اور تناظر میں پہچاننا ضروری ہے۔ایک بچہ ایک پہلوان کو جس دلیری سے پتھر مار سکتا ہے، ایک بڑا اور عاقل آدمی اس سے گریز کرے گا کہ اسے پہلوان کی طاقت کا اندازہ ہے جب کہ بچے کو پتا ہی نہیں۔ہم چوں کہ اپنے اسلاف کے علمی تراث سے بے بہرہ لوگ ہیں، اس لیے جدید دور میں کوئی بھی خوش نما بات کہ دے تو پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں گر جاتے ہیں۔
--------------------------------
کتاب کی سافٹ کاپی نیٹ پر نہیں۔ کوشش کیجیے کتاب شریعہ اکیڈمی سے منگوا لیں۔
منتظم جناب طاہر صاحب کا نمبر درج کر دیتا ہوں :
6426001- 0306
-----------------
فیس بک پر قاری حنیف ڈار صاحب کے متونِ حدیث پر اعتراضات کے حوالے سے مختلف اہلِ علم نے حصہ ڈالا ہے جن میں محترم حافظ زبیر صاحب کا contribution لائقِ تحسین ہے۔بندہ بھی اپنی بساط کی حد تک کچھ لکھنا چاہتا تھا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کئی پہلوؤں پر اچھی چیزیں لکھ دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ موضوع اتنا سیرحاصل گفت گو کی تاریخ رکھتا ہے اور عربی اور اردو میں ڈاکٹر مصطفی سباعی سے لے کر آج تک اس پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ کسی نئے لکھنے والے کے لیے کوئی قابلِ ذکر نیا پہلو عام طور پر باقی معلوم نہیں ہوتا اور سابقہ لکھی ہوئی باتوں ہی کو دھرانا پڑتا ہے۔ البتہ یہاں ایک کتاب کا ذکر کرنا مناسب ہے جسے کچھ سال پہلے شریعہ اکیڈمی گوجرانوالہ نے شائع کیا تھا: متونِ حدیث پر جدید ذہن کے اشکالات- ایک تحقیقی مطالعہ؛ اس کے مصنف ڈاکٹر اکرم ورک ہیں جو ایک ذی استعدا د عالم اور محقق ہیں۔اس کتاب میں انھوں نےحجیتِ حدیث کے مسئلے کو زیادہ زیرِ بحث لانے کے بجائے ان احادیث پر فردا فردا گفت گو کی ہے جن کے متن پر جدید ذہن کو اشکالات ہوتے ہیں او ر پھر اس کی بنیاد پر وہ ہماری علمی روایت، محدثینِ عظام کی عظیم کاوشوں اور ذخیرۂ احادیث ہی سے بے زار ہو جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اکثر نوجوان کتابوں کے مطالعے کے عادی نہیں ہیں اور جس طرح کھانے میں آج کی نسل فاسٹ فوڈ پر گزارا کرتی ہے، علم کے باب میں بھی انٹرنیٹ اور میڈیا پر موجود کھچڑی ہی کو کافی سمجھتے ہیں، ورنہ اگر وہ ہمت فرمائیں اور "چند کلیوں پر قناعت" کرنے کے مزاج سے ذرا بلند ہوں تو "گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں" کا سامان بھی موجود ہے، بہ شرطے کہ طبیعت حق کی جویا ہو اور صداقت کی طلب ہو؛ ورنہ اعتراض جواب کی کوئی انتہا نہیں اور کسی کو مکمل طور پر چپ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔
فیس بک پر طویل علمی بحثیں ممکن بھی نہیں ہیں اور یہ چیزیں وقت اور فرصت چاہتی ہیں۔مذکورہ بالا کتاب ایک عمدہ تحقیقی کتاب ہے اور اسے علما کو بھی مطالعے میں رکھنا چاہیے اور جدید ذہن کے دوستوں کو بھی۔مسلم علمی روایت سے بے زار ہونے سے پہلے اس کے قد کاٹھ کو اس کے حقیقی خدوخال اور تناظر میں پہچاننا ضروری ہے۔ایک بچہ ایک پہلوان کو جس دلیری سے پتھر مار سکتا ہے، ایک بڑا اور عاقل آدمی اس سے گریز کرے گا کہ اسے پہلوان کی طاقت کا اندازہ ہے جب کہ بچے کو پتا ہی نہیں۔ہم چوں کہ اپنے اسلاف کے علمی تراث سے بے بہرہ لوگ ہیں، اس لیے جدید دور میں کوئی بھی خوش نما بات کہ دے تو پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں گر جاتے ہیں۔
--------------------------------
کتاب کی سافٹ کاپی نیٹ پر نہیں۔ کوشش کیجیے کتاب شریعہ اکیڈمی سے منگوا لیں۔
منتظم جناب طاہر صاحب کا نمبر درج کر دیتا ہوں :
6426001- 0306
0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔