(Time Management)
_____________________
۴۔ معلومات کی کمی (Lack of information)
سنہ 2007 میں جب میں پہلی بار چائنا گیا تو واپس آتے وقت ائرپورٹ کے لیے ٹیکسی پکڑی ۔ وہاں سب ٹیکسیاں میٹر پر چلتی ہیں۔ کیوں کہ زبان کا بھی مسئلہ تھا اس لیے میں نے ڈرائیور سے صرف ‘‘ایئرپورٹ’’ کا لفظ کہا۔ وہ مجھے بٹھا کر ایک طرف چل پڑا۔ چائنا کے ایئرپورٹ شہروں سے کافی دور ہوتے ہیں۔ پہلے تو اس نے شہر سے باہر نکلنے میں بیس پچیس منٹ لگادیے۔ بعد میں شہر سے نکل کر ایک ہائے وے پر آگیا اور گاڑی دوڑانے لگا۔ گاڑی کے ساتھ میٹر بھی اسی اسپیڈ سے چلنے لگا جو تھوڑی ہی دیر میں میرے نظام تنفس کے ساتھ لنک ہوگیا۔ اُدھر میٹر کے نمبربدلتے جاتے اِدھر میرے دماغ کا میٹر گھومتا جاتا۔ جب ہائی وے پر بھی اس نے دس منٹ کے قریب گاڑی چلالی تو میں نے ڈرائیور سے کہا کہ مجھے ایئرپورٹ جانا ہے تم مجھے کہاں لے کر جارہے ہو؟ اس نے اشاروں سے کہا کہ ایئرپورٹ ہی جارہا ہوں۔ میں نے مزید بات سمجھانے اور سمجھنے کی کوشش کی لیکن دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ پھر اس نے گاڑی روڈ کے سائڈ میں کھڑی کی اور جیب سے موبائل نکال کر کسی دوست کو کال ملائی اور میری طرف موبائل بڑھا دیا تاکہ میں اپنی بات اسے سمجھاؤں۔ وہاں اکثر ٹیکسی ڈرائیور انگریزی جاننے والے کسی نہ کسی دوست کا نمبر اپنے پاس ضرور رکھتے ہیں جو مسافروں سے انگلش میں بات کرسکے۔ اس بندے کو میں نے کہا کہ میں ائرپورٹ جانا چاہتا ہوں اور کافی وقت گاڑی چلنے کے بعد بھی ابھی ایئرپورٹ نہیں آیا۔ نہ جانے یہ شخص مجھے کہاں لے کر جارہا ہے؟ اس شخص نے کہا کہ یہاں دو ائرپورٹ ہیں آپ کو کون سے ایئرپورٹ جانا ہے۔ میں نے بتایا کہ وہ ایئرپورٹ جہاں سے انٹرنیشنل فلائٹس جاتی ہیں، کیوں کہ میں نے دبئی جانا ہے۔ اس شخص نے کہا اچھا میں ڈرائیور کو سمجھا دیتا ہوں۔ اس کے بعد ڈرائیور نے آگے سے کہیں گاڑی گھمائی اور دوسرے ائیرپورٹ لے کر گیا۔ ورنہ جس ائرپورٹ کی طرف وہ مجھے لے کر جارہا تھا وہ اب بھی کوئی ستر ، اسی کلومیٹر دور تھا۔ اب دیکھیں میں نے کہاں غلطی کی؟ مجھے سفر شروع کرنے سے قبل ہوٹل والوں سے مکمل معلومات لے لینی چاہیے تھی کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ لیکن میں نے اپنے دماغ میں فرض کرلیا اور سمجھا کہ ایئرپورٹ کا لفظ ہی کافی رہے گا اس لیے کسی سے کچھ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ جس کا نتیجہ، پریشانی، وقت کے ضیاع اور رقم کی اضافی ادائگی کی صورت میں نکلا۔
یہ تو زندگی کے بیشمار واقعات میں سے صرف ایک واقعہ ہے، ورنہ آئے دن انسان کے ساتھ اس طرح کے واقعات تسلسل کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں کہ جب آدمی کسی کام سے نکلتا ہے، لیکن اسے نہیں معلوم ہوتا کہ جہاں وہ جا رہا ہے وہاں اس کا کام ہوجائے گا یا کوئی سرپرائز مل جائے گا۔ اسی لیے ہر کام کرنے سے قبل یا کسی نئی جگہ جانے سے پہلے منزل اور متعلقہ کام سے متعلق مکمل معلومات حاصل کرلینی چاہیے۔ منزل کے بارے میں ایڈوانس جانکاری اس وقت اور بھی ضروری بن جاتی ہے جب آپ طویل قفہ کے بعد کسی مانوس مقام پر جا رہے ہوں یاکسی فرد سے ملنے جا رہے ہوں۔ اس لیے کہ ممکن ہے جہاں آپ جا رہے ہیں اس کے راستہ یا محل وقوع میں کچھ تبدیلیاں آ گئی ہوں یا جس فرد سے آپ ملنے جا رہے ہیں اس کے معمولات یا ذمہ داریوں میں ردوبدل ہوگیا ہو۔
دبئی میں صبح کے وقت روڈوں پر بہت زیادہ ٹریفک ہوتا ہے۔ اس لیے جن لوگوں کا آفس دور ہوتا ہے اور انہیں پنہچنا بھی وقت پر ہوتا ہے وہ یہاں کا مقامی ایف ایم ریڈیو ضرور آن رکھتے ہیں، جس پر دیگر دلچسپ پروگرامات کے علاوہ اس چیز کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے کہ روڈوں پر ٹریفک کی صورتحال کے بارے میں ڈرائیورز کو اپ ڈیٹ رکھا جائے۔ اگر کہیں ایکسیڈنٹ ہوجائے یا کسی اور وجہ سے کوئی روڈ بند ہوجائے تو ایف ایم پر اعلان ہوجاتا ہے کہ فلاں روڈ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے فلاں جگہ بند ہوگیا ہے۔ یوں، اکثر لوگ فوراََ اپنی گاڑی کا رخ متبادل راستہ کی طرف موڑ لیتے ہیں۔
۵۔ منصوبہ بندی کا فقدان
کام چھوٹاہو یا بڑا، منصوبہ بندی چاہتاہے۔ منصوبہ بندی کے بغیر کیےجانے والے کاموں میں وقت بھی زیادہ لگتا ہے اور کام بھی مطلوبہ معیار کا نہیں ہوپاتا۔ ہمارے سامنے اہداف واضح نہیں ہوتے، کاموں کی فہرست ذہن میں نہیں ہوتی، امور کو بجالانے کے لیے ترجیحات کا تعین نہیں ہوتا پھر ہر کام کو اسکی اہمیت اور ماہیت کے حساب کتنا وقت دینا چاہیے اس کا کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ اس لیے جو لوگ اپنی زندگی میں منضبط ہوتے ہیں وہ ضرور کچھ باتوں کا التزام کرتے ہیں۔ وہ کیا امور ہیں، نیچے ان کا مختصر خاکہ دیا جا رہا ہے۔
۔ اہداف کا تعین (Setting of Goals and Targets)
۔ امور کی انجام دہی کے لیے منصوبہ (Planing)
۔ کرنے کے کاموں کی فہرست (Things to do list)
۔ وقت ضایع کرنے والے کاموں کی فہرست (List of Time wasting things)
۔ دوسروں کو کام تفویض کرنا (Delegating the work)
اب ہم باری باری مندرجہ بالا نکات پر بات کریں گے۔
۔ اہداف کا تعین (Setting of Goals and Targets)
ہر چیز کا ایک مقصد اور ہدف ہوتا ہے۔ آپ نے اگر صبح کے وقت کبھی باہر سڑک پر نکل کر دیکھا ہو تو آپ دیکھیں گے کہ کچھ لوگ بڑے خراماں خراماں چل رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ بڑے تیز تیز قدم اٹھا رہے ہیں۔ کچھ تو بھاگے جا رہے ہیں۔ کچھ مشرق سے مغرب کی طرف جا رہے ہیں تو کچھ مغرب سے مشرق کی طرف چل رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا کوئی نہ کوئی مقصد اور ہدف ہوتا ہے۔ کوئی چہل قدمی کی نیت سے آہستہ آہستہ چل رہا ہے تو کوئی آفس کی بس پکڑنے کے لیے دوڑ لگا رہا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہر عمل کا کوئی نہ کوئی مقصد یا ہدف ضرور ہوتا ہے۔
جب آپ صبح نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو آپ کو سونے کی قیمتی اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی دے دی جاتی ہے، جس میں پوری چوبیس طلائی اشرفیاں ہوتی ہیں۔ ان اشرفیوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی مالیت یا ویلیو طے نہیں ہے کہ کیا ہو، بلکہ آپ نے خود اس کی مالیت طے کرنی ہے۔ آپ چاہیں تو وہ اشرفی ایک روپے میں کسی کو دے دیں، چاہیں تو ایک لاکھ میں دے دیں اور چاہیں تو یوں ہی نالی میں پھینک دیں۔ مزے کی بات یہ کہ اگر آپ سارا دن اس تھیلی کو نہ کھولیں تو بھی اس نے خالی ہوجانا ہے اور چوبیس گھنٹے بعد اس میں کچھ بھی نہ بچے گا، ہاں البتہ دوسرے دن آپ کو ضرور ایک نئی تھیلی اسی طرح دے دی جائے گی اور یہ سلسلہ انسان کی موت تک جاری رہتا ہے۔
اس لیے آپ نے بڑی احتیاط سے اس قیمتی کرنسی کو استعمال کرنا ہے۔ اس کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہے۔ روزآنہ کی بنیاد پر غوروفکر کرنا ہے۔ آپ نے صبح اٹھتے ہی یہ طے کرلینا ہے کہ آپ، دن کا آغاز کس طرح سے کریں گے۔ کون کون سے کام کریں گے اور وہ کام کس طرح مکمل ہوں گے۔ آپ کے اہداف دنیاداری کے بھی ہوسکتے ہیں اور آخرت کی تیاری کے لحاظ سے بھی۔ آپ کو سوچنا ہوگا کہ آپ اس دنیا میں کیوں بھیجے گئے ہیں۔ اگر خود سے معلوم پڑجائے تو بڑی اچھی بات ورنہ قرآن سے پوچھ لیں یا کسی عالم سے پوچھ لیں زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہم کیوں اس دنیا میں آئے ہیں اور ہمیں اس مختصر زندگی میں کیا کچھ کرنا چاہیے کہ ہم کامیاب ہوجائیں اور کن چیزوں سے بچنا چاہیے تاکہ ہم ناکامی سے بچ سکیں۔ یہ مقصد آپ کی زندگی کے باقی تمام مقاصد سے بالاتر اور اولین ہونا چاہیے کہ اسی کے بل بوتے پر آپ کو اس زندگی کامیابی ملے گی جو ہمیشہ کی زندگی ہے، اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ اگر خداناخواستہ یہ ہدف یا گول نگاہوں سے اوجھل ہوگیا تو پھر اللہ نا کرے، ہمیشہ کی ناکامی اور پریشانی ہے۔ (اللہ محفوظ فرمائے)
اسی طرح آپ کا اپنے دنیاوی کیریئر ، پیشے یا کاروبار کے حوالہ سے بھی کوئی نہ کوئی وژن ہوگا۔ آپ اس کے لیے اہداف طے کریں گے۔ ان اہداف کے حصول کے لیے منصوبہ بنائیں گے اور ایکشن پلان ترتیب دیں گے۔ پھر اپنی پوری قوت اور توانائی ان اہداف کے حصول پر لگادیں گے تب جا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔
آئندہ اقساط میں ہم‘‘ وژن ’’، ‘‘ہدف’’ اور اہداف کے حصول کے لیے ایکشن پلان یعنی ‘‘لائحہ عمل’’ ترتیب دینے پر بات کریں گے۔

0 تبصرے:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔